حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 350 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 350

350 کے لئے حمد ہے اور تو ہر چیز پر قادر ہے اور دعا قبول کرنے والا ہے۔“ (فتح رحمانی صفحه ۲۶،۲۷) مولوی غلام دستگیر قصوری نے اپنی اس کتاب کی نسبت یہ بھی لکھا تھا کہ ” تبالة والاتباعه “ یعنی وہ اور اس کے پیرو ہلاک ہو جائیں۔خدا کی قدرت که جوطریق فیصله مولوی غلام دستگر قصوری نے چاہا تھا۔اس دعا کے بعد اُسی کے مطابق چند روز کے اندر اندر خود طاعون کا شکار ہو گئے۔اب کیا مولوی غلام دستگیر قصوری کی کوئی قابل قدر یادگار باقی ہے؟ ہرگز نہیں۔مولوی غلام دستگیر قصوری کو یہ شوق پیدا ہوا تھا کہ جس طرح امام محمد طاہر نے ایک جھوٹے مسیح پر بد دعا کی تھی اور خدا تعالیٰ نے اس کو ہلاک کر دیا تھا۔اسی طرح میرے بد دعا کرنے پر خدا تعالیٰ میرے زمانہ کے مدعی مہدویت کو ہلاک کر دے گا۔مگر ہوا یہ کہ اس بد دعا کے بعد چند دن کے اندر اندر خود ہی ہلاک ہو گئے۔دعوت مباہلہ کے مخاطب علماء کا انجام حضرت مسیح موعود نے دعوت مباہلہ کے مخاطب علماء کا انجام بیان کرتے ہوئے فرمایا۔میں نے اپنے رسالہ انجام آتھم میں بہت سے مخالف مولویوں کا نام لیکر مباہلہ کی طرف بلا یا تھا اور صفحہ 66 رسالہ مذکور میں یہ لکھا تھا کہ اگر کوئی ان میں سے مباہلہ کرے تو میں دُعا کروں گا کہ ان میں سے کوئی اندھا ہو جائے اور کوئی مفلوج اور کوئی دیوانہ اور کسی کی موت سانپ کاٹنے سے ہو اور کوئی بے وقت موت سے مرجائے اور کوئی بے عزت ہو اور کسی کو مال کا نقصان پہنچے۔پھر اگر چہ تمام مخالف مولوی مرد میدان بن کر مباہلہ کیلئے حاضر نہ ہوئے مگر پس پشت گالیاں دیتے رہے اور تکذیب کرتے رہے۔چنانچہ ان میں سے رشید احمد گنگوہی نے صرف لعنۃ اللہ علیٰ الکاذبین نہیں کہا بلکہ اپنے ایک اشتہار میں مجھے شیطان کے نام سے پکارا ہے۔آخر نتیجہ اس کا یہ ہوا کہ تمام بالمقابل مولویوں میں سے جو باون تھے آج تک صرف ہیں زندہ ہیں اور وہ بھی کسی نہ