حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 308
308 اور مناسب ہے کہ اس دُعا کے لئے تمام صاحبان اپنے دلوں کو صاف کر کے آویں کوئی نفسانی جوش وغضب نہ ہو اور ہار وجیت کا معاملہ نہ سمجھیں اور نہ اس دُعا کو مباہلہ قرار دیں کیونکہ اس دُعا کا نفع نقصان کل میری ذات تک محدود ہے مخالفین پر اس کا کچھ اثر نہیں۔“ اربعین نمبر ۲۔روحانی خزائن جلد ۷ اصفحه ۳۷۵، ۳۷۷) روئے زمین پر موجود تمام انسانوں کو نشان نمائی کے مقابلہ کا چیلنج کیا زمین پر کوئی ایسا انسان زندہ ہے کہ جو نشان نمائی میں میرا مقابلہ کر سکے۔(تذکرۃ الشہادتین۔روحانی خزائن جلد ۲۰ صفحہ ۳۶) تمام مخالفین کو نشان نمائی کے مقابلہ کا چیلنج غرض قرآن شریف کی زبر دست طاقتوں میں سے ایک یہ طاقت ہے کہ اُس کی پیروی کرنے والے کو معجزات اور خوارق دئے جاتے ہیں اور وہ اس کثرت سے ہوتے ہیں کہ دنیا اُن کا مقابلہ نہیں کرسکتی۔چنانچہ میں یہی دعویٰ رکھتا ہوں اور بلند آواز سے کہتا ہوں کہ اگر دنیا کے تمام مخالف کیا مشرق کے اور کیا مغرب کے ایک میدان میں جمع ہو جائیں اور نشانوں اور خوارق میں مجھ سے مقابلہ کرنا چاہیں تو میں خدا تعالیٰ کے فضل سے اور توفیق سے سب پر غالب رہوں گا اور یہ غلبہ اس وجہ سے نہیں ہوگا کہ میری روح میں کچھ زیادہ طاقت ہے بلکہ اس وجہ سے ہوگا کہ خدا نے چاہا ہے کہ اس کے کلام قرآن شریف کی زبردست طاقت اور اس کے رسول حضرت محمد مصطفی مصلے کی روحانی قوت اور اعلیٰ مرتبت کا میں ثبوت دوں اور اُس نے محض اپنے فضل سے نہ میرے کسی ہنر سے مجھے یہ توفیق دی ہے کہ میں اُس کے عظیم الشان نبی اور اس کے قومی الطاقت کلام کی پیروی کرتا ہوں اور اس سے محبت کرھتا ہوں اور وہ