حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 304 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 304

304 والی آگ ہے ڈرے۔( تریاق القلوب۔روحانی خزائن جلد ۱۵ صفحه ۱۷۰) ۳۔چونکہ ان لوگوں کی عداوت حد سے بڑھ گئی ہے۔اس لئے میں نے ان کی اصلاح کے لئے اور ان کی بھلائی کے لئے بلکہ تمام مخلوق کی خیر خواہی کے لئے ایک تجویز سوچی ہے جو ہماری گورنمنٹ کی امن پسند پالیسی کے مناسب حال ہے جس کی تعمیل اس گورنمنٹ عالیہ کے ہاتھ میں ہے۔اور وہ یہ ہے کہ یہ حسن گورنمنٹ جس کے احسانات سب سے زیادہ مسلمانوں پر ہیں ایک یہ احسان کرے کہ اس ہر روزہ تکفیر اور تکذیب اور قتل کے فتووں اور منصوبوں کے روکنے کے لئے خود درمیان میں ہو کر یہ ہدایت فرمادے کہ اس تنازع کا فیصلہ اس طرح پر ہو کہ مدعی یعنے یہ عاجز جس کو مسیح موعود ہونے کا دعویٰ ہے اور جس کو یہ دعویٰ ہے کہ جس طرح نبیوں سے خدا تعالیٰ ہم کلام ہوتا تھا۔اُسی طرح مجھ سے ہم کلام ہوتا ہے اور غیب کے بھید مجھ پر ظاہر کئے جاتے ہیں اور آسمانی نشان دکھلائے جاتے ہیں۔یہ مدعی یعنے یہ عاجز گورنمنٹ کے حکم سے ایک سال کے اندر ایک ایسا آسمانی نشان دکھاوے ایسا نشان جس کے مقابلہ کوئی قوم اور کوئی فرقہ جو زمین پر رہتے ہیں نہ کر سکے۔اور مسلمانوں کی قوموں یا دوسری قوموں میں سے کوئی ایسا ملہم اور خواب بین اور معجزہ نما پیدا نہ ہو سکے جو اُس نشان کی ایک سال کے اندر نظیر پیش کرے۔اور ایسا ہی ان تمام مسلمانوں بلکہ ہر ایک قوم کے پیشواؤں کو جو ملہم اور خدا کے مقرب ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں ہدایت اور فہمائیش ہو کہ اگر وہ اپنے تئیں سچ پر اور خدا کے مقبول سمجھتے ہیں اور ان میں کوئی ایسا پاک رب ہے جس کو خدا نے ہم کلام ہونے کا شرف بخشا ہے اور الہی طاقت کے نمونے اس کو دیے گئے ہیں۔تو وہ بھی ایک سال تک کوئی نشان دکھلا دیں۔پھر بعد اس کے اگر ایک سال