حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 298
298 پڑے ہیں خدائی کلام اور الہی قدرتیں ان کی نظر میں ہنسی کے لائق ہیں۔ایسا ہی میاں عطا محمد کا حال ہے۔مجھے یاد ہے کہ جب بمقام امرتسر مسٹر عبداللہ آ نظم کو ان کی موت کی نسبت پیشگوئی سنائی گئی تو میاں عطا محمد نے میرے فرودگاہ میں آ کر میرے روبروں ایک مثال کے طور پر بیان کیا کہ ایک ڈاکٹر نے میری موت کی خبر دی تھی کہ اتنی مدت میں عطا محمد فوت ہو جائے گا مگر وہ مدت خیر سے گزرگئی اور میں نے اس کے بعد ڈاکٹر صاحب کی خدمت میں حاضر ہو کر ان کو سلام کیا۔اس نے کہا کہ تو کون ہے۔میں نے کہا وہی عطا محمد جس کے مرنے کی آپ نے پیشگوئی کی تھی۔مطلب یہ کہ یہ تمام امور جھوٹ اور لغو ہیں۔مگر میاں عطا محمد کو یادر ہے کہ ڈاکٹر کی مثال اس جگہ دینا صرف اس قدر ثابت کرتا ہے کہ آسمانی روشنی سے آپ بکلی بے خبر ہیں۔بے شک ایک ہستی موجود ہے جس کا نام خدا ہے اور وہ اپنے بچے مذہب کی تائید میں نہ صرف کسی زمانہ محدود تک بلکہ ہمشہ ضرورت کے وقت میں آسمانی نشان دکھلاتا ہے اور دنیا کا ایمان نئے سرے قائم کرتا ہے۔ڈاکٹر کی مثال سے ظاہر کہ آپ کا اس خدا پر ایمان کس قدر ہے۔اب میں مناسب سمجھتا ہوں کہ اس رسالہ کو اسی جگہ ختم کر دوں۔فالحمد لله اولا واخرا وظاهرا وباطنا هو مولانا نعم المولى ونعم (شہادۃ القرآن۔روحانی خزائن جلد ۶ صفحہ ۳۷۶، ۳۷۷) النصير۔،، اس کے بعد میاں عطا محمد صاحب نے خاموشی اختیار کر لی۔وو مخالف مولویوں کو نشان نمائی کے مقابلہ کا چیلنج یہ خدا کی قدرت ہے کہ جس قدر مخالف مولویوں نے چاہا کہ ہماری جماعت کو کم کریں وہ اور بھی زیادہ ہوئی اور جس قدر لوگوں کو ہمارے سلسلہ میں داخل ہونے سے روکنا چاہاوہ اور بھی داخل ہوئے یہاں تک کہ ہزار ہا تک نوبت پہنچ گئی۔اب ہر روز