حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 297
297 قائل تھے لیکن کسی مسیح کے اس امت میں آنے کے منکر تھے اگست ۱۸۹۳ء میں اپنے مطبوعہ خط کے ذریعہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے دریافت کیا کہ اس بات پر کیا دلیل ہے کہ آپ مسیح موعود ہیں یا کسی مسیح کا انتظار کرنا ہم کو واجب ولازم ہے۔مسیح موعود کے آنے کی پیشگوئی گو احادیث میں موجود ہے مگر احادیث کا بیان میرے نزدیک پا یہ اعتبار سے ساقط ہے کیونکہ احادیث زمانہ دراز کے بعد جمع کی گئی ہیں۔اور اکثر مجموعہ احاد ہے جو مفید یقین نہیں۔حضور نے اس سوال کی اہمیت کے پیش نظر جواب میں رسالہ ”شہادۃ القرآن“ لکھا جس میں اس سوال کا علمی جواب دینے کے بعد آخر پر لکھا کہ۔”اور اگر بھی یہ تمام ثبوت میاں عطا محمد صاحب کے لئے کافی نہ ہوں تو پھر طریق سہل یہ ہے کہ اس تمام رسالہ کو غور سے پڑھنے کے بعد بذریعہ کسی چھپے ہوئے اشتہار کے مجھ کو اطلاع دیں کہ میری تسلی ان امور سے نہیں ہوئی اور میں ابھی تک افتر سمجھتا ہوں اور چاہتا ہوں کہ میری نسبت کوئی نشان ظاہر ہو تو میں انشاء اللہ القدیر ان کے بارہ میں توجہ کروں گا اور میں یقین رکھتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کسی مخالف کے مقابل پر مجھے مغلوگ نہیں کرے گا کیونکہ میں اس کی طرف سے ہوں اور اس کے دین کی تجدید کیلئے اس کے حکم سے آیا ہوں لیکن چاہئے کہ وہ اپنے اشتہاہر میں مجھے عام اجازت دیں کہ جس طور سے میں ان کے حق میں الہام پاؤں اس کو شائع کرا دوں اور مجھے تعجب ہے کہ جس حالت میں مسلمانوں کو کسی مجدد کے ظاہر ہونے کے وقت خوش ہونا چاہئے یہ پیچ و تاب کیوں ہے اور کیوں ان کو برا لگا کہ خدا تعالیٰ نے اپنے دین کی حجت پوری کرنے کیلئے ایک شخص کو مامور کر دیا ہے لیکن مجھے معلوم ہوا ہے کہ حال کے اکثر مسلمانوں کی ایمانی حالت نہای ردی ہو گئی ہے اور فلسفہ کی موجودہ زہر نے ان کے اعتقاد کی بیگنی کر دی ہے۔ان کی زبانوں پر بے شک اسلام ہے لیکن دل اسلام سے بہت دور جا