حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 285 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 285

285 اگر قادیان کے ہندو اس معاہدہ پر قائم رہتے تو یقیناً اللہ تعالی ایک سال کی میعاد کے اندر اندر اسلام کی صداقت پر مبنی کئی غیر معمولی نشانات ظاہر فرما تا مگر افسوس کہ قادیان کے ہندؤوں کے میدان سے بھاگ جانے کے باعث ایسا نہ ہوسکا۔چالیس روز میں نشان نمائی کے مقابلہ کی دعوت جیسا کہ پہلے ذکر کیا جا چکا ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ۱۸۸۵ء کے آغاز میں تمام مخالفین اسلام کو ایک سال تک قادیان میں ٹھہر کر آسمانی نشان دکھانے کی دعوت دی مگر کوئی مخالف عملی طور پر آسمانی نشان دیکھنے کیلئے تیار نہ ہوا۔اس کے بعد حضرت اقدس نے ۲۰ ستمبر ۱۸۸۶ء کو ایک اور اشتہار دیا جس میں کئی آریہ اور عیسائی معززین کو مخاطب کر کے صرف چالیس روز میں آسمانی نشان دکھانے کا چیلنج یا۔یہ چیلنج حسب ذیل ہے۔”ہمارے اشتہارات گزشتہ کے پڑھنے والے جانتے ہیں کہ ہم نے اس سے پہلے یہ اشتہار دیا تھا کہ جو معزز آریہ صاحب یا پادری صاحب یا کوئی اور صاحب اور صاحب مخالف اسلام ہیں اگر ان میں سے کوئی صاحب ایک سال تک قادیان میں ہمارے پاس آ کر ٹھہرے تو درصورت نہ دیکھنے کسی آسمانی نشان کے چوہیں سو روپیہ انعام پانے کا مستحق ہوگا۔سو ہر چند ہم نے تمام ہندوستان و پنجاب کے پادری صاحبان و آریہ صاحبان کی خدمت میں اسی مضمون کے خط رجسٹری کرا کر بھیجے مگر کوئی صاحب قادیان میں تشریف نہ لائے۔بلکہ منشی اندر من صاحب کیلئے تو مبلغ چوبیس سو روپیہ نقد لاہور میں بھیجا گیا تو وہ کنارہ کر کے فرید کوٹ کی طرف چلے گئے ہاں ایک صاحب پنڈت لیکھرام نام پشاوری قادیان میں ضرور آئے تھے اور ان کو بار بار کہا گیا کہ اپنی حیثیت کے موافق بلکہ اس تنخواہ سے دو چند جو پشاور میں نوکری کی حالت میں پاتے تھے ہم سے بحساب ماہواری لینا کر کے ایک سال تک ٹھہرو اور اخیر پر یہ بھی کہا گیا کہ