حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 240 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 240

240 کہ گویا ڈیڑھ ماہ سے پیدا ہو گیا ہے، سراسر دروغ ہے۔ہم اس دروغ کے ظاہر کرنے کے لئے لکھتے ہیں کہ آج کل ہمارے گھر کے لوگ بمقام چھاؤنی انبالہ صدر بازار اپنے والدین کے پاس یعنی اپنے والد میر ناصر نواب صاحب نقشہ نویس دفتر نہر کے پاس بود و باش رکھتے ہیں اور ان کے گھر متصل منشی مولا بخش صاحب ملازم ریلوے اور با بومحمد صاحب کلرک دفتر نہر رہتے ہیں۔معترضین یا جس شخص کو شبہ ہو، اس پر واجب ہے کہ اپنا شبہ رفع کرنے کے لئے وہاں چلا جائے اور اس جگہ اردگرد سے خوب دریافت کر لے۔اگر کرایہ آمد ورفت نہ ہو تو ہم اس کو دے دیں گے لیکن اگر اب بھی جا کر دریافت نہ کرے اور نہ دروغ گوئی سے باز آوے تو بجز اس کے کہ ہمارے اور تمام حق پسندوں کی نظر میں لعنت اللہ علی الکاذبین کا لقب پاوے اور نیز زیر عتاب حضرت احکم الحاکمین کے آوے۔اور کیا ثمرہ اس یاوہ گوئی کا ہوگا۔خدا تعالیٰ ایسے شخصوں کو ہدایت دیوے کہ جو جوش حسد میں آکر اسلام کی کچھ پرواہ نہیں رکھتے اور اس دروغ گوئی کے مال کو بھی نہیں سوچتے۔“ ( مجموعہ اشتہارات جلد اصفحہ ۱۱۴۱۱۳) ایک صاحب جو رسالہ درۃ الاسلام کے ایڈیٹر تھے نے اپنے رسالہ کے ایک پرچہ میں یہ اعتراض کیا کہ مرزا صاحب نے پسر موعود کے سلسلہ میں مارچ ۱۸۸۶ء میں اشتہار دیا تھا کہ لڑکا پیدا ہوگا لیکن اس اعلان کے برخلاف لڑکا پیدا ہونے کی بجائے لڑکی پیدا ہوئی۔اس پر حضرت مسیح عود علیہ السلام نے اس شخص کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں:۔پھر یہ شخص لکھتا ہے کہ مارچ ۱۸۸۶ ء میں اشتہار دیا تھا کہ لڑکا پیدا ہوگا۔یعنی بعد اس کے لڑکی پیدا ہوئی۔لیکن اے نادانو ! دل کے اندھو! میں کب تک تمہیں سمجھاؤں گا۔مجھے وہ اشتہار ۱۸۸۶ء دکھلاؤ۔میں نے کہاں لکھا ہے کہ اسی سال میں لڑکا پیدا ہونا