حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 214 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 214

214 سے تمام مذاہب کی سچائی یا کذب پہچاننے کے لئے ایک نمائش گاہ مقرر کیا گیا ہے۔اور خدا نے سبقت کر کے اپنی طرف سے پہلے قادیان کا نام لے دیا ہے۔اب اگر آریہ لوگ وید کو سچا سمجھتے ہیں تو اُن کو چاہئے کہ بنارس کی نسبت جو وید کے درس کا اصل مقام ہے ایک پیشگوئی کر دیں کہ اُن کا پر میشر بنارس کو طاعون سے بچالے گا۔اور سناتن دھرم والوں کو چاہئے کہ کسی ایسے شہر کی نسبت جس میں گائیاں بہت ہوں مثلاً امرتسر کی نسبت پیشگوئی کر دیں کہ گئو کے طفیل اس میں طاعون نہیں آئے گی۔اگر اس قدر گنو اپنا معجزہ دکھا دے تو کچھ تعجب نہیں کہ اس معجزہ نما جانور کی گورنمنٹ جان بخشی کر دے۔اسی طرح عیسائیوں کو چاہئے کہ کلکتہ کی نسبت پیشگوئی کر دیں کہ اس میں طاعون نہیں پڑے گی کیونکہ بڑا بشپ برٹش انڈیا کا کلکتہ میں رہتا ہے۔اسی طرح میاں شمس الدین اور اُن کی حمایت اسلام کے ممبروں کو چاہئے کہ لاہور کی نسبت پیشگوئی کر دیں کہ وہ طاعون سے محفوظ رہے گا۔اور منشی الہی بخش اکومنٹنٹ جو الہام کا دعویٰ کرتے ہیں اُن کے لئے بھی یہی موقع ہے کہ اپنے الہام سے لاہور کی نسبت پیشگوئی کر کے انجمن حمایت اسلام کو مدد دیں۔اور مناسب ہے کہ عبدالجبار اور عبدالحق شہر امرتسر کی نسبت پیشگوئی کردیں۔اور چونکہ فرقہ وہابیہ کی اصل جڑ دتی ہے اس لئے مناسب ہے کہ نذیرحسین اور محمد حسین دتی کی نسبت پیشگوئی کریں کہ وہ طاعون سے محفوظ رہے گی۔پس اس طرح سے گویا تمام پنجاب اس مہلک مرض سے محفوظ ہو جائے گا۔اور گورنمنٹ کو بھی مفت میں سبکدوشی ہو جائے گی۔اور اگر ان لوگوں نے ایسا نہ کیا تو پھر یہی سمجھا جائے گا کہ سچا خدا وہی خدا ہے جس نے قادیان میں اپنا رسول بھیجا۔اور بالآخر یا در ہے کہ اگر یہ تمام لوگ جن میں مسلمانوں کے ماہم اور آریوں کے