حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 174 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 174

174 دنیوی نعمتوں کا ذکر ہے وصال الہی اور روحانی لذات کا کہیں ذکر نہیں تو ہم اس جھگڑے کا فیصلہ کرنے کے لئے یہ عمدہ طریق سمجھتے ہیں کہ ماسٹر صاحب کسی اخبار کے ذریعہ سے پختہ طور پر ہم کو یہ اطلاع دیں کہ ہاں میری یہی رائے ہے کہ قرآن شریف میں وصالِ الہی اور لذات روحانی کا کہیں ذکر نہیں۔مگر وید میں ایسا بہت کچھ ذکر ہے تو اس صورت میں ہم وعدہ کرتے ہیں کہ صرف تین یا چار ہفتہ تک ایک مستقل رسالہ اسی بارہ میں بغرض مقابلہ وید و قرآن طیار کر کے جہاں تک ہو سکے بہت جلد چھپوا دیں گے اور سور و پیہ بطور انعام ایک نامی اور فاضل بر ہمو صاحب کے پاس جو آریوں کے بھائی بند ہیں امانت رکھ دیں گے۔پھر اگر ماسٹر صاحب بپابندی اپنے چاروں ویدوں کی سنگتا کے جن کو وہ الہامی سمجھتے ہیں روحانی لذات اور وصال ربانی کے بارے میں جو نجات یا بوں کو حاصل ہوگا، قرآن شریف کا مقابلہ کر کے دکھلا دیں اور وہ برہمو صاحب اس کی تائید اور تصدیق کریں تو وہ سو روپیہ ماسٹر صاحب کا ہوگا ورنہ بجائے اس سو روپیہ کے ہم ماسٹر صاحب سے کچھ نہیں مانگتے صرف یہی شرط کرتے ہیں کہ مغلوب ہونے کی حالت میں ایسے وید سے جو بار بار انہیں ندامت دلاتا ہے دست بردار ہو کر اسلام کی بچی راہ کو اختیار کر لیں۔( یار غالب شوکہ تا غالب شوی ) اور اگر ماسٹر صاحب اس رسالہ کی اشاعت کے بعد ایک ماہ تک خاموش رہے اور ایسا مضمون کسی اخبار میں اور نہ اپنے کسی رسالہ میں شائع کیا تو اے ناظرین آپ لوگ 66 سمجھ جائیں وہ بھاگ گئے۔“ سرمه چشم آریہ۔روحانی خزائن جلد نمبر ۲ صفحہ ۱۵۶،۱۵۵) تمام آریہ کو دید کا قرآن سے مقابلہ کی دعوت آریہ سماج کے پیروکار اپنے آپ کو مواحد بیان کرتے ہیں مگر ان کی الہامی کتاب وید میں