حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 162
162 پس الہی عقل از قبیل خارق عادت ہے جس کے استدلال میں کوئی غلطی نہیں اور جس نے علوم مذکورہ سے ایک ایسی شائستہ خدمت لی ہے جو کبھی کسی انسان نے نہیں لی اور اس کے ثبوت کے لئے یہی کافی ہے کہ دلائل وجود باری عز اسمہ اور اس کی تو حید و خالقیت وغیرہ صفات کمالیہ کے اثبات میں بیان قرآن شریف کا ایسا محیط و حاوی ہے جس سے بڑھ کر ممکن ہی نہیں کہ کوئی انسان کوئی جدید برہان پیش کر سکے۔اگر کسی کو شک ہو تو وہ چند دلائل عقلی متعلق اثبات ہستی باری عز ہ اسمہ یا اس کی توحید یا خالقیت یا کسی دوسری الہی صفت کے متعلق بطور امتحان پیش کرے تا بالمقابل قرآن شریف میں سے وہی دلائل یا ان سے بڑھ کر اس کو دکھلائے جائیں جس کے دکھلانے کے ہم آپ ہی ذمہ دار ہیں۔غرض یہ دعویٰ اور یہ تعریف قرآنی لاف گذاف نہیں بلکہ حقیقت میں حق ہے اور کوئی شخص عقائد حقہ کے اثبات میں کوئی ایسی دلیل پیش نہیں کر سکتا جس کے پیش کرنے سے قرآن شریف غافل رہا ہو۔قرآن شریف بآواز بلند بیسیوں جگہ اپنے احاطہ نامہ کا دعوئی پیش کرتا ہے۔چنانچہ بعض آیات ان میں سے ہم اس حاشیہ میں درج بھی کر چکے ہیں۔سو اگر کوئی طالب حق آزمائش کا شائق ہو تو ہم اس کی تسلی کامل کرنے کے لئے مستعد اور طیار اور ذمہ وار ہیں مگر افسوس تو یہ ہے کہ اس پر غفلت اور لا پرواہی اور بے قدری کے زمانہ میں ایسے لوگ بہت ہی تھوڑے ہیں جو صدق دلی سے طالب حق ہو کر اس خاصیت عظمی و معجزہ کبری کی آزمائش چاہیں۔“ سرمه چشم آریہ۔روحانی خزائن جلد نمبر ۲ صفحہ ۷۳۔ح) حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے جملہ مذاہب کے پیروکاروں کو اپنی اپنی الہامی کتابوں سے قرآنی معجزات کا مقابلہ کرنے کا چیلنج دیتے ہوئے فرمایا۔کیا ان قرآنی معجزات کا کوئی کتاب جو الہامی کہلاتی ہے مقابلہ کرسکتی ہے جن سے