حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 150 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 150

ہیں:۔150 وو و عبدوا ابا الخطاب و زعموا انه اله و خرج ابو الخطاب على ابی جعفر المنصور۔۔فقتله عیسی ابن موسى في الكوفة۔(منہاج السنتہ جلد اصفحه ۳۳۹ طبع اولی ۱۳۲۱ھ مطبع الکبری الامیر یہ بولاق مصر محمیہ ) یعنی لوگ ابوالخطاب کو خدا کر کے پوجنے لگے۔اور یہ خیال کیا کہ وہ خدا ہے۔پھر ابوالخطاب نے ابوجعفر پر حملہ کیا۔پس عیسی بن موسیٰ نے کوفہ میں اسے قتل کر دیا۔۹۔احمد بن کیال ا۔اس نے نہ دعویٰ نبوت کیا اور نہ ہی وحی والہام ہونے کا دعویٰ کیا۔۔وہ سخت ناکام و نامراد ہوا۔چنانچہ ”الملل والنحل میں لکھا ہے۔لما وقفوا على بدعته تبرؤا منه و لعنوه (الملل و النحل جلد ۲ صفحه ۷ ۱ برحاشيه الفصل في الملل و النحل طبع بالمطبعة الادبية بسوق الخضار القديم بمصر ١٣٢٠) یعنی اس کے متبعین کو جب اس کی بدعت کا علم ہوا تو انہوں نے اس سے برأت کا اظہار کیا اور اس پر لعنت بھیجی۔۱۰۔مغیرہ بن سعد بجلی اس کے متعلق بھی کسی جگہ سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ اس نے وحی والہام یا نبوت کا دعوی کیا۔پس اس کو پیش کرنا بھی جہالت ہے۔پس مندرجہ بالا کا ذبوں میں سے ایک بھی ایسا وجود نہیں جو لو تقول “ کی باطل شکن تحدی کے سامنے ٹھہر سکے۔ان میں سے ابو منصور، مقنع اور ابوالخطاب الاسدی کا دعوی الوہیت ثابت