حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 146 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 146

146 ا۔ابو منصور مخالفین ابومنصور کو امام ابن تیمیہ کی کتاب منہاج السنہ کے حوالہ سے پیش کرتے ہیں جبکہ منہاج السنہ میں ایک جگہ بھی اس کے دعوی نبوت اور ۲۷ برس تک مہلت پانے کا ذکر نہیں۔اور نہ ہی اُنکے کسی الہام کا ذکر ملتا ہے۔منهاج السنة اور دیگر کتب تاریخ سے صرف اس قدر ثابت ہوتا ہے کہ وہ ایک ملحد انسان تھا اور رافضی خیالات کی ترویج چاہتا تھا۔پھر قدرے الوہیت کا دعوے دار بن گیا۔چنانچہ الاستاذ ابومنصور البغدادی اپنی شہرہ آفاق کتاب ”الفرق بين الفرق“ میں ابو منصور المحبی مدعی مذکور کے متعلق لکھتے ہیں۔و ادعى هذا العجلى انه خليفة الباقر وقف يوسف بن عمر الثقفى و اتى العراق۔فاخذ ابا منصور العجلي و صلبه۔الفرق بين الفرق صفحہ ۱۴۹۔ایڈیشن ۱۹۴۸ء) یعنی ابو منصور انجلی نے یہ دعویٰ کیا تھا کہ وہ باقر کا خلیفہ ہے۔۔پس جب یوسف بن عمر اشتفی کو اس بات کا علم ہوا، وہ عراق آیا اور ابومنصور کو پکڑ کر صلیب دے دی۔پس ابو منصور کا دعویٰ نبوت ہرگز ثابت نہیں ہوتا اور نہ اس کا کوئی الہام پیش کیا گیا ہے۔وہ صلیب دیا گیا اور اپنے کیفر کردار تک پہنچ گیا۔پس ایسے شخص کو پیش کرنا سراسر حماقت ہے۔۲۔محمد بن تومرت ا۔محمد بن تو مرت کا ذکر تاریخ کامل ابن اثیر جلد اصفحہ ۲۰۱ وغیرہ میں ملتا ہے مگر اس کا دعویٰ نبوت کہیں بھی مذکور نہیں۔ہاں اس نے حکومت وقت کے خلاف بغاوت ضرور کی اور ۵۱۴ ء میں