حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات

by Other Authors

Page 134 of 439

حضرت مسیح موعودؑکے چیلنج اور ردّعمل و نتائج و اثرات — Page 134

134 اللہ تعالیٰ اپنی اسی سنت اور اصول کا قرآن کریم میں ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے۔لَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الَا قَاوِيلِ۔لَاخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِينِ۔ثُمَّ لَقَطَعْنَامِنُهُ الْوَتِينِ۔فَمَامِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ عَنْهُ حَاجِزِينَ۔الحاقة : ۴۵ تا ۴۸) ترجمہ:۔اگر یہ شخص ہماری طرف جھوٹا الہام منسوب کر دیتا خواہ ایک ہی ہوتا تو ہم اس کو دائیں ہاتھ سے پکڑ لیتے اور اس کی رگ جان کاٹ دیتے اور اس صورت میں تم میں سے کوئی نہ ہوتا جو اسے درمیان میں حائل ہو کر خدا کی پکڑ سے بچاسکتا۔ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کی صداقت کیلئے یہی اصول بیان فرمایا ہے کہ اگر یہ رسول ﷺ ہماری طرف سے نہ ہوتا پھر بھی ہماری طرف جھوٹی وحی اور الہام منسوب کرتا تو ہم اس کو ہلاک کر دیتے اور یہ ہرگز اتنی مہلت نہ پاتا۔خواہ تم سب لوگ اس کو بچانے کی ہر ممکن کوشش بھی کرتے۔پس اس مدعی نبوت کا اتنی مہلت پانا اور قتل سے بچے رہنا اس بات کی زبر دست دلیل ہے کہ یہ جھوٹا نہیں۔چنانچہ اس آیت کریمہ کی تفسیر میں علامہ فخر الدین رازی لکھتے ہیں۔هذا ذكره على سبيل التمثيل بما يفعله الملوك بمن يتكذب عليهم فانهم لا يمهلونه بل يضربون رقبته في الحال ( تفسیر کبیر جلد۳۰ ص ۱۸ مطبع البهيه مصر ) ترجمہ۔اس آیت میں مفتری کی حالت تمثیلا بیان کی ہے کہ اس سے وہی سلوک ہوگا جو بادشاہ ایسے شخص سے کرتے ہیں جو ان پر جھوٹ باندھتا ہے وہ اس کو مہلت نہیں دیتے بلکہ فی الفور قتل کرواتے ہیں۔( یہی حال مفتری علی اللہ کا ہوتا ہے۔) اہل سنت کی مستند کتاب شرح عقائد نسفی میں لکھا ہے۔