چالیس جواہر پارے — Page 49
49 مگر اس کا یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ جو خاص حقوق شریعت نے قریبی رشتہ داروں کے لئے مقرر کر دیئے ہیں انہیں ترک کر دیا جائے مثلاً باپ کا فرض ہے کہ چھوٹی عمر کی اولاد کے اخراجات کا کفیل ہو۔خاوند کا فرض ہے کہ بیوی کے اخراجات کو برداشت کرے۔بچوں کا فرض ہے کہ بوڑھے یا بے سہارا والدین کا بوجھ اٹھائیں۔اسی طرح شریعت نے ایک شخص کے مرنے پر اس کے ورثاء کے حصے بھی مقرر کر دیئے ہیں کہ بیوی کو اتنا حصہ ملے گا اور اولاد کو اتنا حصہ ملے اور ماں باپ کو اتنا حصہ ملے وغیرہ وغیرہ اور دوسرے رشتہ داروں اور ہمسایوں اور دوستوں کا خاص خیال رکھنے کی بھی تاکید فرمائی ہے۔پس یہ مقررہ حقوق تو بہر حال مقدم رہیں گے لیکن انہیں چھوڑ کر عام تعلقات اور معاملات میں اسلام ہر مسلمان سے توقع رکھتا اور اسے تاکیدی ہدایت دیتا ہے کہ جو بات وہ اپنے لئے پسند کرتا ہے وہی اپنے مسلمان بھائی کے لئے بھی پسند کرے اور یہ نہ ہو کہ اپنے لئے تو اس کا پیمانہ اور ہو اور دوسروں کے لئے اور ہو۔ایک دوسری حدیث میں ہمارے آقا صلی علی کرم فرماتے ہیں کہ تمام مسلمان آپس میں ایک انسانی جسم کے اعضاء کا رنگ رکھتے ہیں جس طرح جسم کے ایک عضو کے دکھنے سے سارا جسم درد میں مبتلا ہو جاتا ہے اسی طرح ایک مسلمان کے دکھ سے ساری قوم میں بے کلی اور بے چینی پید ا ہو جانی چاہیے۔یہ وہ اخوت کا بلند معیار ہے جس پر خدا کا رسول (فداہ نفسی) ہمیں لے جانا چاہتا ہے۔کاش ہم اس تعلیم کی قدر کریں۔