چالیس جواہر پارے

by Hazrat Mirza Bashir Ahmad

Page 155 of 178

چالیس جواہر پارے — Page 155

155 تمہیں چین کے کناروں تک جانا پڑے اور یاد رہے کہ اس زمانہ کے حالات کے لحاظ سے چین کا ملک نہ صرف عرب سے ایک دور ترین ملک تھا بلکہ اس کے رستے بھی ایسے مخدوش تھے کہ وہاں تک پہنچنا غیر معمولی اخراجات اور غیر معمولی کوفت اور غیر معمولی خطرے کا موجب تھا۔اس لئے آنحضرت صلی اللہ و ہم نے چین کے ملک کو مثال کے طور پر بیان فرما کر دراصل اشارہ یہ کیا ہے کہ خواہ تمہیں علم حاصل کرنے کے لئے کتنی ہی دور جانا پڑے اور کیسی ہی تکلیف کا سامنا ہو علم وہ چیز ہے کہ اس کے لئے مومن کو ہر تکلیف اٹھا کر اس کے حصول کا دروازہ کھولنا چاہیے۔چنانچہ تاریخ سے ثابت ہے کہ بعض اوقات ابتدائی مسلمان آنحضرت صلی الی کمی کی ایک ایک حدیث سننے کے لئے سینکڑوں میل دور کا سفر اور غیر معمولی اخراجات برداشت کر کے صحابہ کی تلاش میں پہنچتے تھے۔چنانچہ جب ایک شخص مدینہ سے سینکڑوں میل کا سفر اختیار کر کے آنحضرت صلی الم کے صحابی ابو درداء کے پاس ایک حدیث سننے کی غرض سے دمشق آیا تو ابو در داء نے اسے وہ حدیث بھی سنائی اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی الہی ظلم سے سنا ہے کہ جو شخص علم حاصل کرنے کی غرض سے کسی رستہ کا سفر اختیار کرتا ہے تو خدا تعالیٰ اس کے لئے اس علم کے علاوہ جنت کا رستہ بھی کھول دیتا ہے اور ایک دوسری حدیث میں آنحضرت صلی یی کم فرماتے ہیں کہ ایک انسان کا درجہ ایک ایسے عابد انسان کے مقابلہ پر جو اپنی عبادت کے باوجود علم سے خالی ہے ایسا ہے کہ جیسے عام 1 : شعب الايمان، باب السابع عشر من شعب الايمان وهو باب فى طلب العلم 2 : ابو داؤد کتاب العلم باب الحث على طلب العلم