چالیس جواہر پارے — Page 125
125 یعنی تناسخ کی دلدل میں پھنسا رکھا ہے حالانکہ تو بہ کا مسئلہ ایک بالکل فطری مسئلہ ہے جس کے بغیر نہ تو انسان کی روحانیت مکمل ہوتی ہے اور نہ ہی اس کے اخلاق کمال حاصل کر سکتے ہیں۔پھر تعجب یہ ہے کہ توبہ کا دروازہ بند کرنے والے مذاہب اس دنیا کے خالق و مالک خدا میں وہ اچھے اخلاق بھی تسلیم کرنے کے لئے تیار نہیں جو ایک نیک انسان میں قابل تعریف سمجھے جاتے ہیں۔ایک شریف انسان ہر روز اپنے بچوں اور اپنے دوستوں اور اپنے ماتحتوں اور اپنے نوکروں کی غلطیاں معاف کرتا ہے اور اس کے اس فعل کو قابل تعریف سمجھا جاتا ہے لیکن افسوس ہے کہ خدا کے لئے اس کریمانہ خلق کو ناجائز خیال کیا گیا ہے اور ضروری سمجھا جاتا ہے کہ جب کوئی انسان خدا کا کوئی گناہ کرے تو پھر خواہ اس کے بعد وہ کیسا ہی نادم اور تائب ہو خدا کو اسے کچل کر رکھ دینا چاہیے۔اسلام اس گندے نظریے کو دور سے ہی دھکے دیتا ہے اور ہر بچے تو بہ کنندہ کے لئے خدائی مغفرت اور رحمت کا دروازہ کھولتا ہے اور اس طرح خالق و مخلوق کے درمیان ایک طرف سے شفقت ورحمت کی اور دوسری طرف سے انابت و امتنان کی ایسی نہر جاری کر دیتا ہے جو خدا کی خدائی اور بندے کی بندگی کے شایان شان ہے۔ظاہر ہے کہ انسان کمزور ہے اور بسا اوقات وقتی اثرات کے ماتحت لغزش کھا جاتا ہے تو اس صورت میں یہ کتنا ظلم ہے کہ اگر وہ بعد میں سچے دل سے نادم اور تائب ہو تو پھر بھی اسے کشتی اور گردن زدنی قرار دیا جائے۔یہ خیال کرنا کہ توبہ قبول کرنے سے گناہ پر جرات پیدا ہوتی ہے بالکل موہوم اور باطل خیال ہے۔سچی توبہ تو انسان کو پاک کرنے کا ذریعہ ہے نہ کہ گناہ پر دلیر کرنے کا موجب کیونکہ اسلام نے سچی توبہ کے لئے ایسی شرطیں لگادی ہیں جو تو بہ کو ایک بھاری انقلاب اور حقیقی