چالیس جواہر پارے — Page 102
102 طاقت سے زیادہ قرض برداشت کرنے کی جرات پید اہوتی ہے اور (۳) لڑائیوں اور جنگوں کو ناواجب طول حاصل ہوتا ہے کیونکہ دشمنی کے جوش میں اندھے ہو کر لوگ بے تحاشہ قرض لیتے اور لڑائی کی آگ کو بپا کرتے چلے جاتے ہیں۔اس لئے اسلام نے سود کو حرام قرار دے کر قرضہ کے لین دین کو ذیل کی تین صورتوں میں محدود کر دیا ہے۔(اوّل) سادہ قرضہ جسے عرف عام میں قرضہ حسنہ کہتے ہیں۔جس طرح ایک رشتہ دار دوسرے رشتہ دار کو یا ایک دوست دوسرے دوست کو یا ایک ہمسایہ دوسرے ہمسایہ کو ضرورت کے وقت قرضہ دیتا ہے۔(دوسرے) قرضہ بصورت رہن یعنی اپنی کوئی جائیداد منقولہ یا غیر منقولہ رہن رکھ کر اس کی ضمانت پر کچھ رقم قرض لے لی جائے اور (تیسرے) تجارتی شرکت یعنی کسی شخص کو اپناروپیہ تجارت یا صنعت و حرفت کی صورت دے کر اس کے ساتھ نفع و نقصان میں شرکت کا فیصلہ کر لیا جائے۔ان تین صورتوں کے سوا اسلام کسی اور قرض کی اجازت نہیں دیتا اور سود کے لینے اور دینے کو ( خواہ اس کی شرح کم ہو یا زیادہ) حرام اور ممنوع قرار دیتا ہے۔یہ خیال کرنا کہ سود کے بغیر گزارہ نہیں چلتا ایک باطل خیال ہے جو محض آجکل کے باطل ماحول کی وجہ سے پید اہوا ہے ورنہ اسلامی غلبہ کے زمانہ میں دنیا کی وسیع تجارت سود کے بغیر ہی چلتی تھی اور ان شاء اللہ آئندہ بھی جب کہ اسلام کے دوسرے غلبہ کا دور آئے گا اور لوگ ٹھوکریں کھا کھا کر بیدار ہوں گے پھر اسی طرح چلا کرے گی۔