چالیس جواہر پارے — Page 101
101 اسے باضابطہ عدالت میں لے جانے کے بغیر خود بخود قتل کر دیتے ہیں۔اسلام اس قسم کی دست درازی اور قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے کے طریق کو بھی بڑی سختی کے ساتھ روکتا ہے کیونکہ اس قسم کے حکم کے بغیر بھی ملک کا امن قائم نہیں رہ سکتا۔در حقیقت قتل ناحق کے جرم کو اسلام نے انتہا درجہ خطرناک قرار دیا ہے حتی کہ ایک جگہ قرآن شریف فرماتا ہے کہ ”جس شخص نے ایک جان کو ناحق قتل کیا اس نے گویا سارے جہان کو قتل کیا کیونکہ قتل کے نتیجہ میں نہ صرف انتقام در انتقام کا لمبا تسلسل اور گندہ دور قائم ہو جاتا ہے بلکہ ملک میں قانون کا احترام بھی بالکل مٹ جاتا ہے اور اس قسم کے واقعات کے نتیجہ میں انسانی ضمیر دہشت زدہ ہو کر آہستہ آہستہ بالکل مر جاتا ہے۔پس ضروری تھا کہ قتل کو انتہا درجہ کے جرموں میں شمار کیا جائے۔چوتھی بات اس حدیث میں سود بیان کی گئی ہے۔بے شک صدیوں کے غیر اسلامی ماحول کی وجہ سے آج کل سود قریباً ساری دنیا کے اقتصادی نظاموں کا جزولاینفک قرار پاچکا ہے اور خود مسلمانوں کا ایک معتدبہ حصہ بھی اس میں بالواسطہ یا بلا واسطہ ملوث ہے مگر اس میں ذرہ بھر شبہ نہیں کہ سود ایک بھاری لعنت ہے جو نہ صرف انسانی ہمدردی اور موالات کے جذبات کے لئے تباہ کن ہے بلکہ دنیا میں جھگڑوں اور لڑائیوں کی آگ کو بھڑ کانے کا بھی بہت بڑا موجب ہے۔سود کے نتیجہ میں (۱) انسانی فطرت کے لطیف اخلاق تباہ ہوتے ہیں (۲) اپنی 1 المائدة: 33