چالیس جواہر پارے — Page 92
92 تشریح: یہ حدیث دشمنوں کے ساتھ حسن سلوک اور فلسفہ جہاد کے متعلق اسلامی تعلیم کا نہایت لطیف خلاصہ پیش کرتی ہے جو چہار اصولی باتوں میں آجاتا ہے۔(i) دشمن کے ساتھ لڑنے کی کبھی خواہش نہ کرو اور نہ اس پر حملہ کرنے میں اپنی طرف سے پہل کرو۔(ii) ہمیشہ خدا سے امن اور عافیت کے خواہاں رہو۔(iii) اگر دشمن کی طرف سے پہل ہونے پر اس کے ساتھ لڑائی کی صورت پیدا ہو جائے تو پھر کامل صبر اور استقلال کے ساتھ ڈٹ کر مقابلہ کرو۔(iv) مقابلہ کی صورت میں تسلی رکھو کہ دو انعاموں میں سے ایک انعام بہر حال تم کو مل کر رہے گا یعنی یاتو تم فتح پاؤ گے اور یا شہادت حاصل کرو گے۔جنگوں کے متعلق خواہ وہ دینی ہوں یاد نیوی، دنیا کا کوئی مذہب اور کوئی ملک اور تاریخ عالم کا کوئی زمانہ اس سے بہتر ضابطہ اخلاق پیش نہیں کر سکتا اور ضمناً اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہو تا ہے کہ اسلام دین کے معاملہ میں جبر کی ہر گز اجازت نہیں دیتا کیونکہ اگر لوگوں کو جبر أمسلمان بنانے کی اجازت ہوتی تو آنحضرت صلی اللہ کی بھی یہ ارشاد نہ فرماتے کہ تم دشمن کے مقابلہ کی خواہش نہ کرو۔جبر کرنے والا تو خود موقع تلاش کر کر کے دوسروں پر حملہ آور ہوتا ہے تا کہ انہیں مغلوب کر کے اپنے رنگ میں ڈھال لے۔پس آپ کا یہ فرمانا کہ کبھی دشمن کے مقابلہ کی خواہش نہ کرو اس بات کی قطعی دلیل ہے کہ اسلام دین کے معاملہ میں قطعاً جبر کی اجازت نہیں دیتا اور یہ وہی تعلیم ہے جو قرآن