بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 32 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 32

اذان سوال: مساجد میں نمازوں کے لئے بچوں کے اذان دینے کے بارہ میں ایک دوست نے محترم مفتی سلسلہ صاحب سے حاصل کردہ فتویٰ سے اختلاف کرتے ہوئے اپنی رائے کا اظہار کر کے حضرت امیر المومنین ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں لکھا کہ چھوٹے بچوں کو اذان دینے کی اجازت نہیں دینی چاہیئے۔حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مؤرخہ 25 دسمبر 2019ء میں اس کا درج ذیل جواب عطا فرمایا: جواب: اس مسئلہ پر محترم مفتی صاحب کا جواب بالکل درست ہے اور مجھے اس سے اتفاق ہے۔اگر اذان دینے والے کے لئے بھی کوئی شرائط ہو تیں تو حضور ا ضرور ان کی طرف بھی ہمیں توجہ دلاتے جیسا کہ آپ نے نماز کی امامت کروانے والے کے لئے کئی شرائط بیان فرمائی ہیں۔لیکن اذان کے بارہ میں حضور ﷺ نے صرف اس قدر فرمایا کہ جب نماز کا وقت ہو تو تم میں سے ایک شخص اذان دے۔اور اذان دینے والے کے لئے آپ نے کوئی شرائط بیان نہیں فرمائیں۔پس اذان دینا ایک ثواب کا کام ہے لیکن یہ ایسی ذمہ داری نہیں کہ اس کے لئے غیر معمولی شرائط بیان کی جاتیں۔بلکہ ہر وہ شخص جس کی آواز اچھی ہو اور اسے اذان دینی آتی ہو وہ اس ڈیوٹی کو سر انجام دے سکتا ہے۔بچوں کو اذان دینے کا موقع دینے سے ان کی حوصلہ افزائی ہوتی ہے اور ان میں دین کے کام کرنے کا شوق پیدا ہوتا ہے۔جو ایک بہت اچھی بات ہے۔میں خود بھی یہاں مسجد مبارک میں مختلف بچوں سے اذان دلواتا ہوں۔نوٹ از مرتب: حضور انور نے ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے مکتوب میں محترم مفتی سلسلہ صاحب کے جس فتوی کی توثیق فرمائی ہے ، وہ فتویٰ بھی قارئین کے استفادہ کے لئے ذیل میں درج کیا جارہا ہے: استفتاء: اذان دینے کے لئے کم از کم عمر کیا ہے ؟ کیا بچہ اذان دے سکتا ہے؟ فتوی از مفتی صاحب: مؤذن کے لئے عمر کی کوئی قید ہمیں شریعت میں نہیں مل سکی۔لہذا اگر کوئی بچہ درست طریق پر اذان دینے کی اہلیت رکھتا ہے تو وہ اذان دے سکتا ہے۔(قسط نمبر 13، الفضل انٹر نیشنل 109 اپریل 2021ء صفحہ 11) 32