بنیادی مسائل کے جوابات — Page 28
احادیث کا مطلب یہ ہے کہ گزشتہ ہزار سال کے عرصہ میں اور خصوصاً مسیح موعود کی بعثت سے قبل اسلام کی کمزوری اور کسمپرسی کی یہ حالت ہو گئی تھی کہ آنحضور الم کی یہ پیشگوئی لفظ لفظ پوری ہو چکی تھی کہ يُوشِكُ أَنْ يَأْتِيَ عَلَي النَّاسِ زَمَانٌ لَا يَبْقَي مِنَ الْإِسْلَامِ إِلَّا اسْمُهُ، وَ لَا يَبْقَي مِنَ الْقُرْآنِ إِلَّا رَسْمُهُ ، مَسَاجِدُهُمْ عَامِرَةٌ خَرَابْ مِنَ الْهُدَي ، عُلَمَاؤُهُمْ شَرُّ مَنْ تَحْتَ أَدِيْمِ وَهِيَ السَّمَاءِ مِنْ عِنْدِهِمْ تَخْرُجُ الْفِتْنَةُ وَ فِيْهِمْ تَعُودُ - یعنی قریب ہے کہ لوگوں پر ایسا زمانہ آئے کہ جب اسلام کا صرف نام باقی رہ جائے گا اور قرآن کریم کے صرف الفاظ باقی رہ جائیں گے۔ان کی مسجد میں ظاہر میں تو آباد ہوں گی لیکن ہدایت کے لحاظ سے بالکل ویران ہوں گی۔اس زمانہ کے لوگوں کے علماء آسمان کے نیچے بسنے والی بدترین مخلوق میں سے ہوں گے کیونکہ اُن میں سے ہی فتنے اُٹھیں گے اور اُن میں ہی لوٹ جائیں گے۔( شعب الایمان للبيهقي فصل قال وينبغي لطالب علم أن يكون تعلمه۔۔۔حديث : 1858) مسلمانوں کے بڑے بڑے علماء اسلام چھوڑ کر عیسائیت اختیار کر رہے تھے اور اسلام پر ہر مذہب کی طرف سے تابڑ توڑ حملے کئے جارہے تھے اور کوئی شخص ان حملوں کے جواب کے لئے میدان میں نہیں آرہا تھا۔سید المعصومین رحمتہ للعالمین حضرت اقدس محمد مصطفی ایم کی ذات اطہر اور آپ کی ازواج مطہرات کے خلاف کھلم کھلا گندہ دہنی کی جار ہی تھی۔اس زمانہ میں آنحضور ا کی پیشگوئیوں کے عین مطابق آپ کے غلام صادق مسیح محمدی علیہ السلام کی بعثت ہوئی اور آپ نے اسلام پر ہونے والے ہر حملہ کا منہ توڑ جواب دیا اور ہر دشمن اسلام کو میدان سے راہ فرار اختیار کرنا پڑی۔اور اس طرح اللہ تعالیٰ نے آپ کے ذریعہ اسلام کو ایک مرتبہ پھر پوری شان و شوکت عطا فرمائی اور اسے باقی تمام مذاہب پر غالب کر کے دکھایا اور آپ علیہ السلام نے اسلام اور بانی اسلام الم کی مدح میں بر ملا فرمایا: ہر طرف فکر کو دوڑا کے تھکایا ہم نے کوئی دیں دین محمد سا نہ پایا ہم نے کوئی مذہب نہیں ایسا کہ نشاں دکھلاوے یہ ثمر باغ محمد سے ہی کھایا ہم نے 28