بنیادی مسائل کے جوابات — Page 27
فرمایا: یاد رہے کہ اس منارہ کے بنانے سے اصل غرض یہ ہے کہ تا پیغمبر خد العلیم کی پیشگوئی پوری ہو جائے۔اسی غرض کے لئے پہلے دو دفعہ منارہ دمشق کی شرقی طرف بنایا گیا تھا جو جل گیا۔یہ اسی قسم کی غرض ہے جیسا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک صحابی کو کسری کے مال غنیمت میں سے سونے کے کڑے پہنائے تھے تا ایک پیشگوئی پوری ہو جائے۔“ ( مجموعہ اشتہارات جلد سوم صفحہ 80 مطبوعہ 2019ء حاشیہ) 5۔احادیث میں حضرت عیسی بن مریم کے ظہور کے چالیس سال بعد قیامت آنے کا جو ذکر ہے تو اس میں بھی کئی امور قابل تشریح ہیں جیسا کہ پیشگوئیوں کا خاصہ ہوتا ہے کہ ان میں کئی باتیں تعبیر طلب ہوتی ہیں۔پس ایک تو خود لفظ قیامت تشریح طلب ہے کیونکہ قرآن کریم اور احادیث نبویہ الم میں قیامت کا لفظ مختلف معانی میں بیان ہوا ہے۔قیامت کا لفظ اس عالمگیر تباہی کے لئے بھی آیا ہے جب اس دنیا کی صف لپیٹ دی جائے گی۔ہر انسان کی موت بھی اس کے لئے قیامت ہوتی ہے۔نبی کا زمانہ بھی دشمنوں کے لئے قیامت کا رنگ رکھتا ہے جب ان کے باطل عقائد کو شکست ہوتی ہے اور حق کو غلبہ عطا ہوتا ہے۔آنحضور الم کا عہد مبارک بھی اہل عرب کے لئے ایک قیامت ہی تھا جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ (القمر:2) یعنی (عرب کی) تباہی کی گھڑی آگئی ہے اور چاند پھٹ گیا ہے۔اسی لئے حضور ا ہم نے فرمایا کہ میں اور قیامت اس طرح قریب ہیں جس طرح یہ (درمیانی اور شہادت کی ( و انگلیاں۔(صحیح بخاري كتاب الطلاق) رو اسی طرح کسی ترقی یافتہ قوم کا تنزل یا کسی مغلوب قوم کا اچانک ترقی پانا بھی قیامت کے معنوں میں آتا ہے۔حضرت مسیح علیہ السلام یعنی مسیح محمدی کے ظہور کے چالیس سال بعد قیامت کے ذکر پر مشتمل 27