بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 1 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 1

آخری زمانہ سوال: اردن سے ایک دوست نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں یہ استفسار بھجوائے کہ۔۔۔ہم نے پڑھا ہے کہ آنے والے مہدی آخری زمانہ میں ظاہر ہوں گے، کیا ہم واقعی آخری زمانہ میں رہ رہے ہیں؟ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے مکتوب مؤرخہ 10 فروری 2022ء میں ان سوالات کے درج ذیل جوابات عطا فرمائے۔حضور انور نے فرمایا: جواب: ہمارے زمانہ کے آخری ہونے اور مسیح موعود اور مہدی معہود علیہ السلام کے اس زمانہ میں ظاہر ہونے کی جہاں تک بات ہے تو قرآن کریم، احادیث نبویہ الم اور بزرگان امت کے اقوال سے ثابت ہوتا ہے کہ آنحضور لم نے اپنی امت میں جس مسیح اور مہدی کی آمد کی وہ تیرھویں صدی ہجری کے آخر یا چودھویں صدی ہجری کے آغاز میں ظاہر ہونا خبر دی تھی وہ تیہ تھا۔چنانچہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:۔يُدَبِّرُ الْأَمْرَ مِنَ السَّمَاءِ إِلَي الْأَرْضِ ثُمَّ يَعْرُجُ إِلَيْهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ أَلْفَ سَنَةٍ مِمَّا تَعُدُّونَ (السجدہ :6) یعنی اللہ تعالیٰ آسمان سے زمین پر اپنے حکم کو اپنی تدبیر کے مطابق قائم کرے گا۔پھر وہ اس کی طرف ایک ایسے وقت میں جس کی مقدار ایسے ہزار سال کی ہے جس کے مطابق تم دنیا میں گفتی کرتے ہو چڑھنا شروع کرے گا۔اس آیت میں بتایا گیا ہے کہ ایک ہزار سال تک مسلمان دنیا میں کمزور ہوتے جائیں گے۔اس کے بعد محمد رسول الله الم کی پیشگوئیوں کے عین مطابق اسلام کی شوکت کو دوبارہ دنیا میں قائم کرنے والا مامور آجائے گا۔اور اسلام پھر مضبو طی سے قائم ہو جائے گا۔آنحضور لم نے اسلام کی پہلی تین صدیوں کو خَيْرُ القُرون یعنی بہترین صدیاں قرار دیا ہے اور یہ ہزار سال جس میں دین کا آسمان کی طرف چڑھنا مقدر تھا وہ یقیناً ان تین صدیوں کے بعد شروع ہو نا تھا۔پس تیرہ سو سال بعد دین اسلام کا از سر نو قیام مقدر تھا جو مہدی اور مسیح کے ظہور