بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 584 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 584

سوال : ایک خاتون نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے نماز تسبیح پڑھنے کے طریق کے بارہ میں دریافت کیا ہے کہ اس نماز میں پڑھی جانے والی تسبیحات چار رکعات میں تین سو کی تعداد میں کس طرح مکمل ہو سکتی ہیں؟ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے مکتوب مؤرخہ 25 جولائی 2021ء میں اس سوال کا درج ذیل جواب ارشاد فرمایا: جواب: نماز تسبیح کے بارہ میں مروی احادیث سے یہ بات قطعیت کے ساتھ ثابت ہے کہ حضور ا نے خود اس نماز کو کبھی ادا نہیں کیا اور نہ ہی خلفائے راشدین سے اس نماز کے پڑھنے کا کوئی ثبوت ملتا ہے۔اسی طرح اسلام کی نشاۃ ثانیہ کے لئے مبعوث ہونے والے حضور ا کے غلام صادق حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے بھی اس نماز کے پڑھنے کی کوئی روایت ہمیں نہیں ملتی۔البتہ بعض احادیث میں آتا ہے کہ حضور ام نے کچھ صحابہ کو یہ نماز سکھائی اور اس کے پڑھنے کی انہیں تلقین فرمائی۔اسی لئے علمائے سلف میں نماز تسبیح کے متعلق مروی احادیث کے بارہ میں دونوں قسم کی آراء موجودہ ہیں، کچھ نے ان احادیث کو قابل قبول قرار دیا ہے اور کچھ نے ان احادیث کی اسناد پر جرح کرتے ہوئے انہیں موضوع قرار دیا ہے۔اسی طرح ائمہ اربعہ میں بھی اس بارہ میں اختلاف پایا جاتا ہے۔چنانچہ حضرت امام احمد بن حنبل اس نماز کو مستحب کا درجہ بھی نہیں دیتے جبکہ دیگر فقہاء اسے مستحب قرار دیتے ہیں اور اس کی فضیلت کے بھی قائل ہیں۔میرے نزدیک اس نماز کا پڑھنا ضروری نہیں لیکن اگر کوئی شخص اپنے طور پر یہ نماز پڑھے تو پھر ہمیں حضرت علی رضی اللہ عنہ کے اس ارشاد کو پیش نظر رکھنا چاہیے جسے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے بھی بیان فرمایا ہے کہ ایک شخص ایسے وقت میں نماز ادا کر رہا تھا جس وقت میں نماز جائز نہیں۔اس کی شکایت حضرت علی کے پاس ہوئی تو آپ نے اسے جواب دیا کہ میں اس آیت کا مصداق نہیں بننا چاہتا۔أَرَأَيْتَ الَّذِي يَنْهِي عَبْدًا إِذَا صَلَّي۔(سورۃ العلق: 8) یعنی تُو نے دیکھا اس کو جو ایک نماز پڑھتے بندے کو منع کرتا ہے۔(البدر نمبر 15، جلد 2، مؤرخہ یکم مئی 1903ء صفحہ 114)(مصنف عبد الرزاق کتاب صلاة العيدين باب الصلاة قبل خروج الامام وبعد - الجزء3 حدیث نمبر 5626) 584