بنیادی مسائل کے جوابات — Page 555
اور پھلوں سے بالکل مختلف ہیں اور وہاں کا دودھ اور شہد اور شراب اس دنیا کے دودھ اور شہد اور شراب سے بالکل مختلف ہے اور قرآن کریم نے ان امور کی خود ایسی تشریح فرما دی ہے کہ اس کے بعد اس امر میں شک کرنا محض تعصب کا اظہار ہے اور یہ محاورات چونکہ پہلی کتب میں بھی موجود ہیں اس لئے ان آیات میں کوئی ایسی بات نہیں جس کا سمجھنا لوگوں کے لئے مشکل ہو۔“ ( تفسیر کبیر جلد اوّل صفحہ 241 تا 246) پھر اُخروی زندگی کی ان نعمتوں کو یہ دنیاوی نام بھی لوگوں کو سمجھانے اور ان کی طرف انہیں راغب کرنے کے لئے دیئے گئے ہیں۔کیونکہ مذہب ہر قسم کے لوگوں کے لئے ہوتا ہے۔اس لئے ایسی چیزوں کو جن کا سمجھنا لوگوں کے لئے مشکل ہو ضروری ہوتا ہے کہ انہیں ایسے الفاظ میں بیان کیا جائے کہ انہیں ہر سطح کے لوگ سمجھ جائیں اور ہر درجہ کے لوگ ان سے فائدہ اُٹھا سکیں۔اس حکمت کو مد نظر رکھ کر قرآن کریم نے اُخروی زندگی کی نعماء کے لئے ایسے الفاظ استعمال کئے ہیں جو ہر قسم کے لوگوں کے لئے ان کی عقل اور درجہ کے مطابق تشفی کا موجب ہوں۔پھر کفار چونکہ مسلمانوں کو طعنہ دیا کرتے تھے کہ یہ لوگ خود بھی ہر قسم کی نعمتوں سے محروم ہیں اور ہم سے بھی یہ سب نعمتیں چھڑوانا چاہتے ہیں۔لہذا اللہ تعالیٰ نے اُخروی زندگی کی نعمتوں کو ان کے ذہن کے قریب کرنے کے لئے ان دنیوی اشیاء کا نام دید یا جن کو وہ نعمت سمجھتے تھے اور انہی چیزوں کے نام لے کر بتایا کہ مومنوں کو یہ سب کچھ حاصل ہو گا۔ورنہ قرآن و حدیث میں یہ مضمون خوب کھول کر بیان کر دیا گیا ہے کہ جنت میں ایسی نعماء ہوں گی جنہیں پہلے نہ کسی آنکھ نے دیکھا ہو گا، نہ کسی کان نے ان کے بارہ میں سنا ہو گا اور نہ کسی کے دل میں ان کے متعلق کبھی کوئی خیال گزرا ہو گا۔ہاں صرف وہ نیک اور پارسا لوگ جو اس دنیا میں رہتے ہوئے ان دنیوی آلائشوں سے کنارہ کشی اختیار کر کے روحانی پروازیں کرنے والے ہوں گے انہیں اسی دنیا میں ان نعمتوں کا مزا چکھا دیا جائے گا اور ایسے لوگ جب جنت میں ان نعماء کو اپنی پوری کیفیت کے ساتھ پائیں گے تو برملا پکار اٹھیں گے کہ : هُذَا الَّذِي رُزِقْنَا مِنْ قَبْلُ (البقرة: 26) 555