بنیادی مسائل کے جوابات — Page 545
نطفہ میں Lactobacillus نامی بیکٹیریا سوال: کینیڈا سے ایک دوست نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں تحریر کیا کہ نطفہ میں جو Lactobacillus نامی بیکٹیر یا پایا جاتا ہے، جو ایک قسم کی بجلی یا روشنی بھی پیدا کر سکتا ہے تو کیا یہی وہ بجلی یا روشنی ہے جس کا ذکر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے انسانی پیدائش کے سلسلہ میں اسلامی اصول کی فلاسفی میں فرمایا ہے؟ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے مکتوب مؤرخہ 14 دسمبر 2021ء میں اس سوال کے بارہ میں درج ذیل ہدایات فرمائیں۔حضور انور نے فرمایا: جواب: آپ کی بات اس حد تک تو ٹھیک ہے کہ Lactobacillus نامی بیکٹیر یا نطفہ میں موجود ہوتے ہیں ، جو Contaminant کے طور پر نطفہ میں پائے جاتے ہیں ، ان میں سے بعض میں بہت چھوٹے پیمانہ پر بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت بھی ہوتی ہے۔لیکن یہ بیکٹیریا تو بہت سی اور چیزوں مثلاً دہی، وٹامنز ، Herbs وغیرہ میں بھی پائے جاتے ہیں۔اسی طرح جسم میں بہت سے اور بیکٹیریا بھی ہیں جن میں کسی حد تک بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہوتی ہے جیسا کہ Probiotic micro organisms نامی پیٹ کے بیکٹیریا جو کھانا ہضم کرنے میں مدد دیتے ہیں۔پھر یہ بات بھی یاد رکھنے کے لائق ہے کہ یہ بجلی بھی الیکٹرون کی Movement سے پیدا ہوتی ہے۔جو کہ ایک مادی چیز ہے۔جبکہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے انسانی پیدائش میں روح کے نمودار ہونے کا جہاں ذکر فرمایا ہے اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ انسانی تعلق کا مقصد اور فلسفہ بیان فرمایا ہے وہاں دراصل اس فطرت کو بیان فرمایا ہے جو انسانی جبلت میں مضمر ہوتی ہے اور جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فطرت اللهِ الَّتِي فَطَرَ النَّاسَ عَلَيْهَا۔(الروم:31) یعنی یہ اللہ کی فطرت ہے جس پر اس نے انسانوں کو پیدا کیا، کے الفاظ میں اور آنحضور لم نے مَا مِنْ مَوْلُودٍ إِلَّا يُوْلَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ فَأَبَوَاهُ يُهَوّدَانِهِ أَوْ يُنَصِّرَانِهِ أَوْ يُمَجِّسَانِهِ (صحيح بخاري كتاب الجنائزبَاب إِذَا أَسْلَمَ الصَّبِيُّ فَمَاتَ هَلْ يُصَلَّي عَلَيْهِ) یعنی ہر بچہ فطرت صحیحہ پر ہی پیدا ہوتا ہے پھر اس کے والدین اسے یہودی، نصرانی یا مجوسی بنا لیتے ہیں، کے الفاظ میں ہماری رہنمائی فرمائی ہے۔چنانچہ 545