بنیادی مسائل کے جوابات — Page 535
کو فتح و نصرت سے سرفراز فرماتا ہے۔پس ان آیات سے آپ جو استدلال کر رہے ہیں وہ درست نہیں ہے۔لیکن اس کے ساتھ ہمارا ایمان ہے کہ دنیا کی ہدایت اور اصلاح کے لئے جب بھی کسی نبی یا مصلح کی ضرورت ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ انسانیت پر رحم کرتے ہوئے کسی نہ کسی نبی یا مصلح کو ضرور دنیا کی ہدایت کے لئے مبعوث کرتا چلا آیا ہے اور اس کا یہ رحم آئندہ بھی جاری رہے گا لیکن اس کے اس رحم کا اظہار کس طرح ہو گا؟ یہ وہی بہتر جانتا ہے۔جہاں تک قرآن کریم اور احادیث نبویہ اہل علم سے اس بارہ میں رہنمائی کے حصول کا تعلق ہے تو ہمارے آقا و مولیٰ حضرت اقدس محمد مصطفی الم نے اپنے بعد اپنی اُمت میں دو دفعہ خلافت علی منہاج النبوۃ کے قیام کی بشارت دی ہے۔پہلی مرتبہ کے قیام کے بعد آپ نے اس نعمت کے اٹھائے جانے کا ذکر فرمایا ہے لیکن دوسری مرتبہ اس نعمت کے قیام کی خوشخبری دینے کے بعد آپ نے خاموشی اختیار فرمائی، جس سے اس نعمت کے قیامت تک جاری رہنے کا استدلال ہو تا ہے۔(مسند احمد بن حبنل جلد 6 صفحه 285، مسند النعمان بن بشير ) پھر آنحضور ﷺ کے غلام صادق اور اس زمانہ کے حکم و عدل حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خدا تعالیٰ سے خبر پاکر قرآن کریم کی مختلف آیات ، احادیث نبویہ الم اور دیگر مذاہب کی تاریخ سے استدلال کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ انسانی نسل کی عمر سات ہزار سال ہے۔آنحضور ایم کی بعثت پانچویں ہزار سال میں ہوئی اور اب ہم اس سلسلہ کے ساتویں ہزار سال میں سے گزر رہے ہیں۔چنانچہ حضور علیہ السلام فرماتے ہیں: ”ہمارا عقیدہ جو قرآن شریف نے ہمیں سکھلایا ہے یہ ہے کہ خدا ہمیشہ سے خالق ہے اگر چاہے تو کروڑوں مرتبہ زمین و آسمان کو فنا کر کے پھر ایسے ہی بنادے اور اُس نے ہمیں خبر دی ہے کہ وہ آدم جو پہلی امتوں کے بعد آیا جو ہم سب کا باپ تھا اس کے دنیا میں آنے کے وقت سے یہ سلسلہ انسانی شروع ہوا ہے۔اور اس سلسلہ کی عمر کا پورا دور سات ہزار برس تک ہے۔یہ سات ہزار خدا کے نزدیک ایسے ہیں جیسے انسانوں کے سات دن۔یاد رہے کہ قانون الہی نے مقرر کیا ہے کہ ہر ایک اُمت 535