بنیادی مسائل کے جوابات — Page 534
نبی یا مصلح کو دنیا کی ہدایت کے لئے مبعوث کرنا سوال: مصر کے ایک دوست نے قرآن کریم کی آیت سُنَّةَ اللَّهِ فِي الَّذِيْنَ خَلَوْا مِنْ قَبْلُ وَ لَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللهِ تَبْدِيلًا۔(سورۃ الاحزاب: 63) اور آیت فَهَلْ يَنْظُرُونَ إِلَّا سُنَّتَ الْأَوَّلِينَ فَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّتِ اللهِ تَبْدِيلًا وَ لَن تَجِدَ لِسُنَّتِ اللهِ تَحْوِيلًا (سورة فاطر: 44) سے استدلال کرتے ہوئے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں لکھا کہ خدا تعالیٰ کے بعض قانون قطعی اور مستقل ہیں جن میں اس کا مستقل نبی یا تابع نبی بھیجنے کا قانون بھی شامل ہے۔تو کیا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بعثت کے 622 سال بعد حضرت موسی علیہ السلام یا آنحضرت ام کی طرح کوئی شرعی نبی اور اگر اسلام خاتم الادیان ہے تو کیا کوئی غیر شرعی نبی آسکتا ہے یا آپ کا کوئی خلیفہ آپ کی پیروی میں نبی بن سکتا ہے؟ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے مکتوب مؤرخہ 09 ستمبر 2021ء میں اس سوال کے بارہ میں درج ذیل ہدایات سے نوازا۔حضور انور نے فرمایا: جواب: پہلی بات تو یہ ہے کہ آپ نے قرآن کریم کی جن آیات سے خدا تعالیٰ کے کسی مستقل یا تابع نبی کے بھیجنے کی سنت کے قطعی اور دائمی ہونے کا استدلال کیا ہے وہ ان آیات سے نہیں ہوتا کیونکہ سورۃ الاحزاب کی آیات میں اللہ تعالیٰ مسلمانوں کے مقابلہ پر مخالفین اسلام خصوصاً منافقین کی ناکامی اور تباہی کے مضمون کو بیان کر کے فرماتا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی سنت ہے جو پہلی الہی جماعتوں کے حق میں بھی جاری ہوئی اور اب بھی جاری ہو گی کہ مخالفین و منافقین اسلام ذلیل و رسوا ہوں گے اور اہل اسلام کو کامیابی عطاہو گی۔اور سورۃ الفاطر کی آیات میں یہ مضمون بیان ہوا ہے کہ انبیاء کی بعثت سے قبل لوگ بڑے بڑے دعوے کرتے ہیں کہ اگر ان کے پاس خدا کی طرف سے کوئی ڈرانے والا آیا تو وہ ضرور پہلے لوگوں سے زیادہ ہدایت پانے والے ہوں گے۔لیکن جب خدا تعالیٰ اپنے کسی فرستادہ کو ان کے پاس بھجواتا ہے تو وہ اس کے خلاف کمربستہ ہو جاتے، تکبر کے ساتھ اسے دھتکارتے اور اس کے خلاف ہر طرح کی سازشیں کرتے ہیں۔ایسی صورت میں پھر اللہ تعالیٰ بھی ان مخالفین کے خلاف اپنی پہلی سنت کو جاری کرتا ہے اور انہیں طرح طرح کے عذابوں میں مبتلا کر کے ناکام و نامراد کر دیتا ہے اور اپنے فرستادوں 534