بنیادی مسائل کے جوابات — Page 519
سوال: ایک خاتون نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں ایک حدیث جس میں حضور ﷺ نے ہدایت فرمائی ہے کہ ”کوئی شخص موت کی تمنانہ کرے“ کی صحت کے بارہ میں دریافت کیا۔نیز لکھا کہ یہ حدیث ہمارے جماعتی لٹریچر میں نہیں ملتی۔حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مؤرخہ 04 اپریل 2019ء میں اس سوال کا درج ذیل جواب عطا فرمایا۔حضور نے فرمایا: جواب: آپ نے اپنے خط میں جس حدیث کا ذکر کیا ہے وہ احادیث کی مختلف کتب میں روایت ہوئی ہے۔حضرت امام بخاری اور حضرت امام مسلم نے بھی اس حدیث کو اپنی کتب میں درج کیا ہے۔اور اس حدیث کے الفاظ یہ ہیں: عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا يَتَمَنَّيَنَّ أَحَدُكُمُ الْمَوْتَ مِنْ ضُرٍ أَصَابَهُ فَإِنْ كَانَ لَا بُدَّ فَاعِلًّا فَلْيَقُلْ اللَّهُمَّ أَحْيِنِي مَا كَانَتِ الْحَيَاةُ خَيْرًا لِي وَتَوَفَّنِي إِذَا كَانَتِ الْوَفَاةُ خَيْرًا لِيْ (صحيح بخاري كتاب المرضي بَاب تَمَنِّي الْمَرِيضِ الْمَوْتَ) یعنی حضرت انس بن مالک سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ تم میں سے کوئی شخص کسی مصیبت کی وجہ سے جو اسے پہنچی ہو ، موت کی تمنا نہ کرے۔اور اگر اس کے لئے اس کے سوا کوئی چارہ نہ ہو تو پھر وہ یہ کہے کہ اے اللہ !جب تک میرازندہ رہنا میرے لئے بہتر ہے، اس وقت تک مجھے زندہ رکھ اور جب مر جانا میرے لئے بہتر ہو تو مجھے موت دیدے۔جماعتی لٹریچر میں حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب نے صحیح بخاری کی جو شرح لکھی ہے اس میں بھی اس حدیث کا ذکر موجود ہے۔اور میں نے بھی 17 اگست 2012ء کے خطبہ جمعہ میں اس حدیث کو بیان کیا ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا: ”کوئی شخص موت کی خواہش نہ کرے۔“ کیونکہ اگر وہ نیک ہے تو نیکیوں میں بڑھے گا اور اللہ تعالیٰ کے فضلوں کا وارث ہو گا اور اگر بد ہے 519