بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 518 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 518

سوال: ایک خاتون نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے سرکاری اور غیر سرکاری بینکوں سے ملنے والے منافع کی بابت دریافت کیا کہ کیا یہ سود کے زمرہ میں آتا ہے یا نہیں؟ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے مکتوب مؤرخہ 23 اگست 2021ء میں اس سوال کا درج ذیل جواب ارشاد فرمایا: جواب: بینک یا کسی مالیاتی ادارہ میں اس شرط کے ساتھ رقم جمع کروانا کہ مجھے اس پر پہلے سے طے شدہ معین شرح کے ساتھ صرف منافع ملے۔یہ صورت ناجائز ہے، کیونکہ یہ زائد رقم سود کے زمرہ میں آتی ہے۔لیکن اگر بینک یا مالیاتی ادارہ میں نفع و نقصان میں شراکت کی شرط کے ساتھ رقم جمع کروائی جائے جیسا کہ ہمارے پاکستان میں PLS یعنی Profit and loss sharing اکاؤنٹس ہوتے ہیں، ایسے اکاؤنٹ سے ملنے والی زائد رقم سود میں شامل نہیں اور انسان اسے اپنے ذاتی مصرف میں لا سکتا ہے۔علاوہ ازیں حکومتی بینک یا حکومتی مالیاتی ادارے چونکہ اپنے سرمایہ کو ملک بھر کے لئے رفاہی کاموں میں لگاتے ہیں اور ان رفاہی کاموں سے نہ صرف اس بینک یا مالیاتی ادارہ میں رقم جمع کروانے والا فائدہ اٹھاتا ہے بلکہ اس ملک کے دوسرے عوام وخواص بھی فائدہ اٹھا رہے ہوتے ہیں۔مزید یہ کہ ان حکومتی بینکوں اور مالیاتی اداروں کی سرمایہ کاری سے ملکی معیشت میں ترقی ہوتی اور روزگار کے زیادہ مواقع پیدا ہوتے ہیں جو حکومت کی آمدنی میں اضافہ کا باعث ہوتے ہیں۔ایسی صورت میں یہ حکومتی بینک یا حکومتی مالیاتی ادارے جب اپنے پاس رقم جمع کروانے والے عوام و خواص کو اپنے منافع میں شریک کرتے ہیں اور اپنے منافع میں سے کچھ معین حصہ اپنے اکاؤنٹ ہولڈرز کو بھی دیتے ہیں تو یہ جائز ہے اور یہ زائد ملنے والا منافع سود کے زمرہ میں نہیں آتا اور انسان اسے اپنے ذاتی مصرف میں لا سکتا ہے۔(قسط نمبر 39، الفضل انٹر نیشنل 26 اگست 2022ء صفحہ 9) 518