بنیادی مسائل کے جوابات — Page 512
چاہتے ہو جبکہ اللہ آخرت پسند کرتا ہے اور اللہ کامل غلبہ والا (اور) بہت حکمت والا ہے۔یہاں جب خونریز جنگ کی شرط لگا دی تو پھر میدان جنگ میں صرف وہی عورتیں قیدی کے طور پر پکڑی جاتی تھیں جو محاربت کے لئے وہاں موجود ہوتی تھیں۔اس لئے کہ وہ صرف عورتیں نہیں ہوتی تھیں بلکہ حربی دشمن کے طور پر وہاں آئی ہوتی تھیں۔پس اسلام انسانوں کو لونڈیاں اور غلام بنانے کے حق میں ہر گز نہیں ہے۔اسلام کے ابتدائی دور میں اُس وقت کے مخصوص حالات میں مجبوراً اس کی وقتی اجازت دی گئی تھی لیکن اسلام نے اور آنحضرت ا نے بڑی حکمت کے ساتھ ان کو بھی آزاد کرنے کی ترغیب دی اور جب تک وہ خود آزادی حاصل نہیں کر لیتے تھے یا انہیں آزاد نہیں کر دیا جاتا تھا، ان سے حسن واحسان کے سلوک کی ہی تاکید فرمائی گئی۔اور جو نہی یہ مخصوص حالات ختم ہو گئے اور ریاستی قوانین نے نئی شکل اختیار کرلی جیسا کہ اب مروج ہے تو اس کے ساتھ ہی لونڈیاں اور غلام بنانے کا جواز بھی ختم ہو گیا۔اب اسلامی شریعت کی رُو سے لونڈی یا غلام رکھنے کا قطعا کوئی جواز نہیں ہے۔بلکہ حکم وعدل حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام نے اب موجودہ حالات میں اس کو حرام قرار دیا ہے۔طلاق کی شرائط یہ ہیں کہ جب کوئی شخص اپنی بیوی کو پورے ہوش و حواس میں اپنی مرضی سے طلاق دے تو طلاق خواہ زبانی ہو یا تحریری، ہر دو صورت میں مؤثر ہو گی۔اسی طرح ایک دفعہ زبانی کہی ہوئی طلاق بھی طلاق ہی شمار ہو گی البتہ عدت کے اندر خاوند کو رجوع کا حق ہے بشر طیکہ یہ تیسری طلاق نہ ہو۔کیونکہ تیسری طلاق کے بعد نہ عدت میں رجوع ہو سکتا ہے اور نہ ہی عدت کے بعد نیا نکاح ہو سکتا ہے، جب تک کہ حَتَّي تَنْكِحَ زَوْجًا غَيْرَهُ والی شرط پوری نہ ہو یعنی یہ بیوی کسی دوسرے مرد سے نکاح کرے اور تعلقات زوجیت کے بعد وہاں سے بغیر کسی منصوبہ بندی کے طلاق یا خلع کے ذریعہ علیحدگی ہو جائے یا اس خاوند کی وفات ہو جائے تو تب یہ عورت اس پہلے مرد سے نکاح کر سکتی ہے۔البتہ ایک ہی وقت میں تین مرتبہ دی جانے والی طلاق صرف ایک ہی طلاق شمار ہوتی ہے۔چنانچہ 512