بنیادی مسائل کے جوابات — Page 501
نے مرد کی نسبت عموماً نازک بنایا اور اس کی فطرت میں اثر قبول کرنے کا مادہ رکھا ہے۔پس ایک مسلمان عورت کو اہل کتاب مرد سے شادی کرنے سے روک کر اس کے دین کی حفاظت کی گئی ہے۔شادی کے معاملہ میں لڑکی کی رضامندی کے ساتھ اس کے ولی کی رضامندی رکھ کر دیگر بہت سے فوائد میں سے ایک فائدہ عورت کو ایک مدد گار اور محافظ مہیا کرنا بھی ہے کہ عورت کے بیا ہے جانے کے بعد اس کے سسرال والے اس بات سے باخبر رہیں کہ عورت اکیلی نہیں بلکہ اس کی خبر رکھنے والے موجود ہیں۔عورت کو ایک وقت میں ایک ہی شادی کی اجازت دے کر اسلام نے اس کی عصمت کی حفاظت کی ہے اور انسانی غیرت اور انسانی جبلت کے عین مطابق یہ حکم دیا ہے۔جس حدیث میں عورتوں کے جہنم میں زیادہ ہونے کا ذکر ہے، وہاں لوگوں نے اس حدیث کا ترجمہ سمجھنے میں غلطی کھائی ہے۔اس حدیث کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ جہنم میں عورتوں کی کثرت ہو گی۔بلکہ حضور لم نے فرمایا: أُرِيْتُ النَّارَ فَإِذَا أَكْثَرُ أَهْلِهَا النِّسَاءُ يَكْفُرْنَ یعنی مجھے جہنم دکھائی جہاں میں نے دیکھا کہ اس میں ایسی عورتوں کی کثرت ہے جو اپنے خاوندوں کی ناشکر گزار ہیں۔یعنی جو عور تیں اپنے اعمال کی وجہ سے جہنم میں موجود تھیں ان میں سے زیادہ وہ عور تیں تھیں جو اپنے خاوندوں کی ناشکر گزار تھیں۔پس ایک تو اس حدیث کا یہ مطلب ہر گز نہیں کہ جہنم میں عورتیں مردوں سے زیادہ ہوں گی۔دوسرا یہاں ان عورتوں کے جہنم میں جانے کی وجہ بھی بتا دی کہ وہ ایسی عورتیں ہے جو بات بات پر خدا تعالیٰ کے ان احسانات کی ناشکری کرنے والی ہیں، جو ان کے خاوندوں کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے ان پر کئے ہیں۔پھر اس کے بالمقابل احادیث میں نیک اور پاکباز خواتین کے پاؤں کے نیچے جنت ہونے کی بھی تو نوید سنائی گئی ہے۔جو کسی مرد کے بارہ میں بیان نہیں ہوئی۔501