بنیادی مسائل کے جوابات — Page 456
کہا کہ جاؤ پھر نیچے ہی رہو۔بعض لوگ کہتے ہیں پتھر کیونکر گرے۔اس کا جواب یہ ہے کہ شدید زلزلہ سے بعض دفعہ زمین کا ٹکڑا اوپر اٹھ کر پھر نیچے گرتا ہے۔ایسا ہی اس وقت ہوا۔زمین جو پتھریلی تھی۔اوپر اٹھی اور پھر دھنس گئی اور اس طرح وہ پتھروں کے نیچے آگئے۔یہ بھی مراد ہو سکتی ہے کہ ان کے گھروں کی دیواریں ان پر آپڑیں۔معلوم ہوتا ہے وہ لوگ پتھروں سے مکان بنایا کرتے تھے۔سجیل کہتے بھی ہیں اس پتھر کو جو گارہ سے ملا ہوا ہو۔پس یہ ایسی دیواروں پر خوب چسپاں ہوتا ہے جن میں پتھر گارہ سے لگائے گئے ہوں۔“ 66 ( تفسیر کبیر جلد چہارم، سورۃ حجر : 66، صفحہ 99) ایک اور جگہ پتھروں کی بارش کی وضاحت کرتے ہوئے حضور فرماتے ہیں: یہ بارش دراصل پتھروں کی تھی جو ایک خطرناک زلزلہ کے نتیجہ میں ہوئی۔یعنی زمین کا تختہ الٹ گیا اور مٹی سینکڑوں فٹ اوپر جا کر پھر نیچے گری اور اس طرح گویا مٹی اور پتھروں کی ان پر بارش ہوئی۔“ پھر سورۃ الشعراء میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ( تفسیر کبیر جلد ہفتم ، سورۃ النمل: 22، صفحہ 408) كَذَّبَتْ قَوْمُ لُوطٍ الْمُرْسَلِينَ إِذْ قَالَ لَهُمْ أَخُوهُمْ لُوطٌ أَلَا تَتَّقُوْنَ إِنِّي لَكُمْ رَسُولٌ أَمِينٌ فَاتَّقُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوْنِ وَمَا أَسْأَلُكُمْ عَلَيْهِ مِنْ أَجْرٍ إِنْ أَجْرِيَ إِلَّا عَلَي رَبِّ الْعَالَمِينَ أتَأْتُونَ الذُّكْرَانَ مِنَ الْعَالَمِيْنَ وَتَذَرُونَ مَا خَلَقَ لَكُمْ رَبُّكُمْ مِنْ أَزْوَاجِكُمْ بَلْ أَنْتُمْ قَوْمٌ عَادُوْنَ قَالُوا لَئِنْ لَمْ تَنْتَهِ يَا لُوْطُ لَتَكُونَنَّ مِنَ الْمُخْرَجِيْنَ قَالَ إِنِّي لِعَمَلِكُمْ مِنَ الْقَالِيْنَ رَبِّ نَجِّنِي وَأَهْلِي مِمَّا يَعْمَلُونَ فَنَجَّيْنَاهُ وَأَهْلَهُ أَجْمَعِيْنَ إِلَّا عَجُوْزًا فِي الْغَابِرِيْنَ ثُمَّ دَمَّرْنَا الْآخَرِيْنَ وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهِمْ مَطَرًا فَسَاءَ مَطَرُ الْمُنْذَرينَ 456 (سورة الشعراء :161 تا 174)