بنیادی مسائل کے جوابات — Page 445
سوال : ایک خاتون نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت میں استفسار کیا کہ بارہ بجے سے ایک بجے تک نیز جب سورج نکل رہا ہو تو قرآن کیوں نہیں پڑھنا چاہیئے ؟ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے اپنے مکتوب مؤرخہ 16 مئی 2021ء میں اس سوال کا درج ذیل جواب عطا فرمایا: جواب: آپ کے خط میں بیان اوقات میں قرآن کریم پڑھنے سے تو کہیں منع نہیں کیا گیا۔البتہ دن کے تین اوقات میں (جب سورج طلوع ہو رہا ہو ، جب سورج غروب ہو رہا ہو اور دو پہر کے وقت جب سورج عین سر پر ہو) آنحضور ﷺ نے نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے اور حضور ا نے اس ممانعت کی وجہ بھی بیان فرمائی ہے۔چنانچہ حضرت عمرو بن عبسہ السلمی روایت کرتے ہیں : قُلْتُ يَا نَبِيَّ اللَّهِ أَخْبِرْنِي عَمَّا عَلَّمَكَ اللَّهُ وَأَجْهَلُهُ أَخْبِرْنِي عَنِ الصَّلَاةِ قَالَ صَلِّ صَلَاةَ الصُّبْحِ ثُمَّ أَقْصِرْ عَنِ الصَّلَاةِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ حَتَّى تَرْتَفِعَ فَإِنَّهَا تَطْلُعُ حِيْنَ تَطْلُعُ بَيْنَ قَرْنَي شَيْطَانٍ وَحِينَئِذٍ يَسْجُدُ لَهَا الْكَفَّارُ ثُمَّ صَلِّ فَإِنَّ الصَّلَاةَ مَشْهُودَةٌ مَحْضُوْرَةٌ حَتَّي يَسْتَقِل الظُّلُّ بِالرُّمْحِ ثُمَّ أَقْصِرُ عَنِ الصَّلَاةِ فَإِنَّ حِيْنَئِذٍ تُسْجَرُ جَهَنَّمُ فَإِذَا أَقْبَلَ الْفَيْء فَصَلِّ فَإِنَّ الصَّلَاةَ مَشْهُودَةٌ مَحْضُوْرَةٌ حَتَّي تُصَلِّيَ الْعَصْرَ ثُمَّ أَقْصِرُ عَنِ الصَّلَاةِ حَتَّي تَغْرُبَ الشَّمْسُ فَإِنَّهَا تَغْرُبُ بَيْنَ قَرْنَيْ شَيْطَانٍ وَحِينَئِذٍ يَسْجُدُ لَهَا الْكُفَّارُ (صحیح مسلم کتاب صَلَاةِ الْمُسَافِرِينَ وَقَصْرِهَا باب اسلام عمرو بن عبسه) یعنی میں نے عرض کیا اے اللہ کے نبی! مجھے اس بارہ میں بتائیے جو اللہ نے آپ کو سکھایا ہے اور میں اس سے بے خبر ہوں۔مجھے نماز کے بارہ میں بتائیے۔حضور الم نے فرمایا کہ صبح کی نماز پڑھو، پھر نماز سے رُکے رہو یہاں تک کہ سورج طلوع ہو جائے اور بلند ہو جائے کیونکہ جب یہ طلوع ہو رہا ہوتا ہے تو شیطان کے دو سینگوں کے درمیان سے نکلتا ہے اور اس وقت کفار اسے سجدہ کرتے ہیں۔پھر نماز پڑھو کیونکہ اس وقت کی نماز کی گواہی دی جاتی ہے 445