بنیادی مسائل کے جوابات — Page 436
فقہ حنفی کوئی صحیح فتویٰ نہ دے سکے تو اس صورت میں علماء اس سلسلہ کے اپنے خدا داد اجتہاد سے کام لیں لیکن ہوشیار رہیں کہ مولوی عبد اللہ چکڑالوی کی طرح بے وجہ احادیث سے انکار نہ کریں ہاں جہاں قرآن اور سنت سے کسی حدیث کو معارض پاویں تو اس حدیث کو چھوڑ دیں۔“ ریویو بر مباحثہ بٹالوی و چکڑالوی، روحانی خزائن جلد 19 صفحه 212) اللہ تعالیٰ کے فضل سے جماعت احمدیہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ان نصائح پر پوری طرح کاربند ہے اور جب بھی کسی مسئلہ میں اجتہاد کی ضرورت پڑتی ہے تو جماعت کے علماء خلافت احمدیہ کے زیر سایہ اس مسئلہ پر غور و خوض کر کے اجتہاد کے طریق کو اختیار کرتے ہیں۔کسی احمدی کا قیاس کو نا پسند کرنا اور اس بناء پر فقہ حنفی کو بُرا خیال کرنا درست نہیں۔اہل علم اور مجتہدین کا جائز حدود میں رہ کر قرآن و سنت اور حدیث سے استنباط کر کے قیاس کے طریق کو اپنانا منع نہیں کیونکہ قرآن کریم اور آنحضور ﷺ کے ارشادات میں قیاس کے حق میں کئی دلائل موجود ہیں۔نیز خلفائے راشدین نے بھی اپنے عہد مبارک میں قیاس سے کام لیا اور کئی نئے پیش آمدہ مسائل کو آنحضور ا کے زمانہ کے کسی مسئلہ پر قیاس کر کے حل فرمایا۔اسی طرح قیاس کے حوالہ سے جن لوگوں نے حضرت امام ابو حنیفہ کو اہل الرائے کہہ کر طعن کی ہے، حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اسے پسند نہیں فرمایا۔چنانچہ ایک موقعہ پر مولوی محمد حسین بٹالوی صاحب کی اسی قسم کی غلطی پر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے انہیں مخاطب کر کے حضرت امام ابو حنیفہ کے مقام کو بیان کرتے ہوئے فرمایا: ”اے حضرت مولوی صاحب آپ ناراض نہ ہوں۔آپ صاحبوں کو امام بزرگ ابو حنیفہ سے اگر ایک ذرہ بھی حسن ظن ہو تا تو آپ اس قدر سبکی اور استخفاف کے الفاظ استعمال نہ کرتے۔آپ کو امام صاحب کی شان معلوم نہیں۔وہ ایک بحر اعظم تھا اور دوسرے سب اس کی شاخیں ہیں۔اس کا نام اہل الرائے رکھنا ایک بھاری خیانت ہے! امام بزرگ حضرت ابو حنیفہ کو علاوہ کمالات علم آثار نبویہ کے استخراج مسائل قرآن میں ید طولی تھا۔خدا تعالیٰ حضرت مجدد الف ثانی پر رحمت کرے انہوں 436