بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 432 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 432

فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام سوال : ایک دوست نے ”فتاوی حضرت مسیح موعود علیہ السلام“ کے Revised ایڈیشن کے بارہ میں تحریر کیا کہ اس کتاب کے پبلشر فخر الدین ملتانی صاحب نے چونکہ ارتداد اختیار کر لیا تھا اس لئے ان کے نام اور ان کے تحریر کردہ دیباچہ کو اس ایڈیشن سے حذف کر دینا چاہیئے۔حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مؤرخہ 26 نومبر 2018ء میں اس کا جماعتی اقدار و روایات کے مطابق نہایت خوبصورت درج ذیل جواب عطا فرمایا: جواب: مذکورہ کتاب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے فتاویٰ پر مشتمل ہے اور فخر الدین ملتانی صاحب نے 1935ء میں اسے مرتب کیا تھا۔یہ کتاب جماعتی لٹریچر میں کافی عرصہ استعمال ہوتی رہی ہے۔لیکن اس میں کتابت اور حوالہ جات کی بہت زیادہ غلطیاں تھیں۔چنانچہ کتابت اور حوالہ جات کی غلطیوں کو اس نئے ایڈیشن میں درست کر دیا گیا۔لیکن چونکہ اس کتاب کے پبلشر اور مؤلف فخر الدین ملتانی صاحب تھے، اب اگر ہم ان کے نام اور ان کے تحریر کردہ دیباچہ کو اس نئے ایڈیشن میں سے حذف کر دیں تو یہ درست بات نہیں ہو گی۔کیونکہ سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعض رفقاء جو حضور کی وفات کے بعد اپنی ناعاقبت اندیشی کی وجہ سے جماعت سے الگ ہو گئے تھے لیکن انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے عہد مبارک میں مختلف کاموں میں جماعت کی خدمت کی توفیق پائی اور ان کے نام تاریخ احمدیت میں شامل ہیں۔آپ کی اس تجویز کے مطابق تو پھر ہمیں ان سب احباب کے نام اور ان کی خدمت کو بھی تاریخ احمدیت سے نکال دینا چاہیے۔لیکن یہ بات جماعتی اخلاقیات اور روایات کے خلاف ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے اب جماعت کی طرف سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے فتاویٰ پر مشتمل ”فقہ المسیح کے نام پر بھی ایک کتاب شائع ہو چکی ہے جس میں ”فتاویٰ حضرت مسیح موعود علیہ السلام “ سے بھی زیادہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ارشادات اور فتاوی شامل کر دیئے گئے ہیں۔(قسط نمبر 7، الفضل انٹر نیشنل 22 جنوری 2021ء صفحہ 12) 432