بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 431 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 431

پس کسی کی وفات پر افسوس کا اظہار کرنے ، إِنَّا لِلّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ کی دعا پڑھنے اور اللہ تعالیٰ کا رحم مانگنے میں کوئی حرج نہیں۔إِنَّا لِلّهِ وَ إِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُوْنَ پڑھنے سے تو خود پڑھنے والے کے لئے بھی دعا ہو جاتی ہے۔کیونکہ کسی تکلیف یا نقصان کے پہنچنے پر اللہ تعالیٰ نے ہمیں یہ دعا پڑھنے کی تلقین فرمائی ہے۔اور اس دعا سے غرض یہ ہوتی ہے کہ اے اللہ تو اس تکلیف کو دور فرمادے یا اس نقصان کو پورا فرما دے۔اور جب کسی کی وفات پر ہم یہ دعا کرتے ہیں تو اس سے ایک مقصد یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اے اللہ اس انسان کے ساتھ جو میری توقعات وابستہ تھیں، اس کے مرنے کے بعد تو ان توقعات کو پورا فرما دے۔اللہ تعالیٰ کا رحم بھی انسان کسی کے لئے بھی مانگ سکتا ہے، کیونکہ رحم کرنا بھی اللہ تعالیٰ کے اختیار میں ہے اور وہی بہتر جانتا ہے کہ اس نے کس انسان پر کس وقت رحم کرنا ہے۔چنانچہ احادیث میں آتا ہے کہ ایک وقت ایسا آئے گا کہ اللہ تعالیٰ کے رحم کے نتیجہ میں جہتم بالکل خالی ہو جائے گی۔( تفسیر الطبری ، تفسیر سورۃ ھود آیت نمبر 108) (قسط نمبر 32، الفضل انٹر نیشنل 22 اپریل 2022ء صفحہ 11) 431