بنیادی مسائل کے جوابات — Page 419
غیر احمدی امام سوال: ایک دوست نے بعض احباب کی طرف سے پوچھے جانے والے اس سوال کی بابت حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے رہنمائی چاہی کہ گھانا کے ماحول کو سامنے رکھتے ہوئے جہاں ایسے غیر احمدی امام بھی ہیں جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور احمدیت کو سچا اور بہترین اسلام سمجھتے ہیں اور مخالفت بھی نہیں کرتے لیکن کسی مجبوری کی وجہ سے قبول احمدیت کی توفیق نہیں پاتے ، تو کیا ایسے افراد یا اماموں کے پیچھے نماز پڑھنا جائز ہو گا ؟ حضور انور نے اپنے مکتوب مؤرخہ 22 جولائی 2019ء میں اس کا درج ذیل جواب عطا فرمایا۔حضور نے فرمایا: جواب: سید نا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے غیر احمدی امام کی اقتداء میں نماز نہ پڑھنے کے مسئلہ پر سیر حاصل بحث فرمائی ہے اور جہاں آپ نے اس مسئلہ کے مختلف پہلوؤں کو ہمارے لئے کھول کھول کر بیان فرمایا ہے وہاں آپ کے بیان کردہ مسئلہ پر بھی روشنی ڈالی ہے۔چنانچہ ایک موقعہ پر ایسے لوگوں کی نسبت ذکر ہوا جو نہ ٹکفر ہیں نہ مکذب اور ان کے پیچھے نماز پڑھنے کا مسئلہ دریافت کیا گیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا: ”اگر وہ منافقانہ رنگ میں ایسا نہیں کرتے جیسا کہ بعض لوگوں کی عادت ہوتی ہے کہ ( با مسلماں اللہ اللہ بابر ہمن رام رام) تو وہ اشتہار دے دیں کہ ہم نہ ٹکذب ہیں نہ نکفر (بلکہ بزرگ نیک ولی اللہ سمجھتے ہیں) اور مکفرین کو اس لئے کہ وہ ایک مومن کو کافر کہتے ہیں، کافر جانتے ہیں تو ہمیں معلوم ہو کہ وہ سچ کہتے ہیں ورنہ ہم ان کا کیسے اعتبار کر سکتے ہیں اور کیونکر ان کے پیچھے نماز کا حکم دے سکتے ہیں۔گر حفظ مراتب نہ کنی زندیقی۔نرمی کے موقع پر نرمی اور سختی کے موقع پر سختی کرنی چاہیئے۔فرعون میں ایک قسم کا رُشد تھا اور اسی رُشد کا نتیجہ تھا کہ اس کے مونہہ سے وہ کلمہ نکلا، جو صد ہا ڈوبنے والے کفار کے منہ سے نہ نکلا۔یعنی آمَنْتُ أَنَّهُ لَا إِلَهَ إِلَّا الَّذِي آمَنَتْ بِهِ بَنُو إِسْرَائِيلَ۔اس کے ساتھ نرمی 419