بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 397 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 397

علم کلام سوال: حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کے ساتھ طلباء جامعہ احمدیہ انڈونیشیا کی 31 اکتوبر 2020ء کو ہونے والی Virtual ملاقات میں ایک طالبعلم نے حضور انور کی خدمت اقدس میں عرض کیا کہ اس زمانہ میں بہت سے لوگ جو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بارہ میں استہزاء کرتے ہیں، ہماری طرف سے ان کا جواب کس طرح ہونا چاہیئے۔اس پر حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: جواب: پہلی بات تو یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو خود فرما دیا کہ: اِنِّي مُهِينٌ مَّنْ أَرَادَ اهَانَتَكَ جو لوگ تیری اہانت کرتے ہیں، میں ان کی اہانت کروں گا۔چاہے وہ ان کو اس دنیا میں ذلیل کرے یا مرنے کے بعد وہ ذلیل ہوں۔یا ان کی اولادیں ذلیل ہوں۔جو تو جان بوجھ کے مذاق کرتے ہیں، ان کو تو اللہ تعالیٰ آپ ہی نیٹے گا۔لیکن ہماری Response اس میں یہی ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمائی ہے کہ تم نے صبر سے کام لینا ہے۔اور کسی آدمی کی سختی کا جواب سختی سے نہیں دینا۔تم نے لڑائی نہیں کرنی۔بے شک میری محبت تم پہ بڑی غالب ہے لیکن تم نے لڑائی نہیں کرنی۔دیکھو! آجکل ہمیں سب سے زیادہ پیارے تو آنحضرت ام ہیں ناں؟ ہمیں مسیح موعود علیہ السلام سے بھی زیادہ پیارے حضرت محمد رسول اللہ الم ہیں۔اور آجکل دیکھو فرانس میں اور بعض یورپین ملکوں میں ان کے خاکے بنا کے مذاق اڑایا جاتا ہے۔اس پہ ہماری Response کیا ہے ؟ ہم یہ کہتے ہیں کہ ہم رسول کریم الی الیم پر زیادہ سے زیادہ درود بھیجیں۔اور جب ہم رسول کریم ﷺ پر درود بھیجتے ہیں تو آلِ محمد پہ درود بھیجتے ہیں۔آلِ محمد بھی اس میں شامل ہو جاتی ہے۔اور رسول کریم امی کی سب سے بڑی آل حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام ہیں۔آپ وہ ہیں جو اُن کے سب سے زیادہ آل میں شمار ہو سکتے ہیں۔اس لئے ہمارا کام یہ ہے کہ جب لوگ مذاق اڑاتے ہیں تو ہم درود پڑھیں۔پہلی بات تو یہ ہے۔چاہے وہ رسول کریم الم کا مذاق ہو یا آپ کے غلام مسیح موعود کا ہو۔ہمیں چاہیے کہ درود پڑھا کریں۔نمبر دو یہ کہ اپنے نمونے ایسے بنائیں کہ مذاق اڑانے والے خود بخود خاموش ہو 397