بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 396 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 396

بنایا۔جس سے ثابت ہوتا ہے کہ ولی مرد ہی ہوتے ہیں۔اس عورت کا چونکہ اور کوئی مرد ولی نہیں تھا۔اس لئے رسول کریم ان لم نے اس لڑکے سے دریافت کرنا ضروری سمجھا۔“ (روزنامه الفضل قادیان دارالامان نمبر 143 ، جلد 26، مؤرخہ 25 جون 1938ء صفحہ 4) البتہ جیسا کہ میں نے اپنے اس خطبہ میں بھی ذکر کیا ہے بیوہ / مطلقہ عورت، کنوری لڑکی کی نسبت اپنے بارہ میں فیصلہ کرنے میں اپنے ولی سے زیادہ حق رکھتی ہے۔اس کا مطلب یہی ہے کہ بیوہ / مطلقہ عورت اگر کسی جگہ شادی کرنا چاہے تو ولی کو اس میں بلا وجہ روک نہیں بنا چاہیے بلکہ اس کی مرضی کا احترام کرتے ہوئے اس کا اس جگہ نکاح کر دینا چاہیئے۔3۔ایک فتویٰ زیر نمبر 27۔09۔2021/20 کے صفحہ 3 پر آپ نے الفضل 16 اگست 1948ء کا ایک حوالہ فقہ احمد یہ عبادات کے حوالہ سے دیا ہے۔ایک تو یہ حوالہ غلط ہے۔دوسرا اگر اصل ماخذ میسر ہو تو حوالہ اُس اصل ماخذ سے ہی دینا چاہیئے۔میں نے یہ حوالہ یہاں تلاش کروایا ہے۔آپ کے فتویٰ میں درج یہ اقتباس حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے خطبہ جمعہ ارشاد فرمودہ 06 اگست 1948ء کا ہے۔جو خطبہ روز نامہ الفضل ربوہ مؤرخہ 08 مارچ 1961ء کے صفحہ نمبر 2 تا 4 پر شائع ہوا تھا۔فقہ احمدیہ میں اس قسم کی بہت سی غلطیاں ہیں، جن کی اصلاح کی ضرورت ہے۔تدوین فقہ کمیٹی کو اس طرف توجہ دلائیں کہ اس کی نظر ثانی کا کام جلد مکمل کریں۔(قسط نمبر 47، الفضل انٹر نیشنل 13 جنوری 2023ء صفحہ 11) 396