بنیادی مسائل کے جوابات — Page 392
سوال: ایک عرب خاتون نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں تحریر کیا کہ نکاح کے فوراً بعد قبل اس کے کہ خاوند بیوی کو چھوئے، رشتہ ختم ہو جانے کی صورت میں اس عورت پر کوئی عدت ہے؟ نیز ایسی صورت میں یہ عورت اپنے اس پہلے خاوند سے شادی کر سکتی ہے جس سے اسے طلاق بتہ ہو چکی ہے؟ حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مؤرخہ 20 جولائی 2020ء میں اس مسئلہ کے بارہ میں درج ذیل جواب عطا فرمایا۔حضور نے فرمایا: جواب: نکاح کے بعد اور میاں بیوی میں تعلقات قائم ہونے سے قبل ہونے والی طلاق میں عورت پر کوئی عدت نہیں جیسا کہ قرآن کریم اس بارہ میں واضح طور پر فرماتا ہے: يَايُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نَكَحْتُمُ الْمُؤْمِنَتِ ثُمَّ طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِنْ قَبْلِ أن تَمَسُّوهُنَّ فَمَا لَكُمْ عَلَيْهِنَّ مِنْ عِدَّةٍ تَعْتَدُّونَهَا فَمَتَّعُوهُنَّ وَ سَرّحُوهُنَّ سَرَاحًا جَمِيلًا۔(سورة الاحزاب:50) یعنی اے مومنو! جب تم مومن عورتوں سے شادی کرو، پھر ان کو ان کے چھونے سے پہلے طلاق دید و تو تم کو کوئی حق نہیں کہ ان سے عدت کا مطالبہ کرو، پس (چاہیے کہ) ان کو کچھ دنیوی نفع پہنچا دو اور ان کو عمدگی کے ساتھ رخصت کر دو۔ا آپ کے دوسرے سوال کا جواب یہ ہے کہ ایسی صورت میں یہ عورت اپنے پہلے خاوند سے جس سے اسے طلاق بتہ ہو چکی ہے رجوع نہیں کر سکتی، کیونکہ طلاق بتہ کی صورت میں دوسرے خاوند کے ساتھ تعلقات زوجیت قائم ہونا ضروری ہیں۔چنانچہ احادیث میں آتا ہے کہ ایک عورت جسے اپنے خاوند سے طلاق بتہ ہو چکی تھی اس نے کسی دوسرے شخص سے شادی کی اور شادی کے بعد حضور الم کی خدمت میں حاضر ہو کر اس دوسرے خاوند کے تعلقات زوجیت قائم نہ کر سکنے کی شکایت کی۔جس پر حضور ﷺ نے اس عورت کو فرمایا کہ شاید تم اپنے پہلے خاوند کے پاس لوٹنا چاہتی ہو لیکن ایسا نہیں ہو سکتا جب تک کہ یہ دوسرا خاوند تمہارے ساتھ تعلقات زوجیت قائم نہ کرلے۔(صحيح بخاري كتاب الطلاق بَاب مَنْ أَجَازَ طَلَاقَ الثَّلَاثِ) 392