بنیادی مسائل کے جوابات — Page 373
سوال: ایک خاتون نے نکاح اور طلاق کے بارہ میں بعض سوالات حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت میں بھجوا کر ان کے بارہ میں رہنمائی چاہی۔حضور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مؤرخہ 17 اگست 2020ء میں ان سوالوں کا تفصیلی جواب عطا فرماتے ہوئے درج ذیل ارشادات فرمائے۔حضور نے فرمایا: جواب: 1۔طلاق یا خلع کے لئے فریقین کا متفق ہونا یا اس کے لئے گواہوں کا ہونا ضروری نہیں۔لیکن انعقاد نکاح کے لئے دونوں چیزوں کا ہونا ضروری ہے۔اس کی وجہ یہ ہے کہ نکاح فریقین کے مابین ایک معاہدہ ہے، جس کے لئے فریقین اور لڑکی کے ولی کی رضامندی اور گواہوں کی موجودگی ضروری ہے۔نیز اس معاہدہ کے اعلان کا بھی حکم ہے۔جبکہ نکاح کے معاہدہ کو ختم کرنے کا اختیار اسلام نے فریقین کو دیا ہے جسے اصطلاح میں خُلع اور طلاق کہا جاتا ہے۔عورت جس طرح اپنا نکاح خود بخود نہیں کر سکتی بلکہ اپنے ولی کے ذریعہ کرتی ہے، اسی طرح خُلع کا استعمال بھی وہ بذریعہ قضاء یا حاکم وقت ہی کر سکتی ہے۔تاکہ خلع کی صورت میں اس کے حقوق کی حفاظت ہو سکے۔جبکہ مرد جس طرح اپنے نکاح کا انعقاد اپنی مرضی سے کرتا ہے۔اسی طرح طلاق کا استعمال بھی وہ خود بخود کر سکتا ہے کیونکہ طلاق کی صورت میں عورت کے حقوق کی ادائیگی خاوند پر لازم ہوتی ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام خُلع اور طلاق کا فلسفہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: شریعت اسلام نے صرف مرد کے ہاتھ میں ہی یہ اختیار نہیں رکھا کہ جب کوئی خرابی دیکھے یا ناموافقت پاوے تو عورت کو طلاق دیدے بلکہ عورت کو بھی یہ اختیار دیا ہے کہ وہ بذریعہ حاکم وقت کے طلاق لے لے۔اور جب عورت بذریعہ حاکم کے طلاق لیتی ہے تو اسلامی اصطلاح میں اس کا نام خلع ہے۔جب عورت مرد کو ظالم پاوے یا وہ اُس کو ناحق مارتا ہو یا اور طرح سے ناقابل برداشت بد سلوکی کرتا ہو یا کسی اور وجہ سے ناموافقت ہو یا وہ مرد دراصل نامرد ہو یا تبدیل مذہب کرے یا ایسا ہی کوئی اور سبب پیدا ہو جائے جس کی وجہ سے عورت کو اُس کے گھر میں 373