بنیادی مسائل کے جوابات — Page 372
سوال: ایک شخص کے اپنی بیوی کو تین طلاق دینے کے بعد رجوع کے بارہ میں محترم ناظم صاحب دارالافتاء کے استفسار پر اس مسئلہ پر روشنی ڈالتے ہوئے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مؤرخہ یکم جولائی 2020ء میں ارشاد فرمایا: جواب: طلاق کے اسلامی حکم، جس کے متعلق حضور الم کا فرمان ہے کہ : أَبْغَضُ الْحَلَالِ إِلَي اللَّهِ تَعَالَي الطَّلَاقُ کو انہوں مذاق بنایا ہوا ہے اور ذرا ذراسی بات پر اپنی بیوی کو طلاق دیتے رہے ہیں۔یہ کوئی طیش نہیں بلکہ سراسر جہالت ہے اور اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی ایک رخصت کی تضحیک ہے۔صاف نظر آرہا ہے کہ ان کے دل میں بسا ہوا ہے کہ بیوی کو تنگ کرنے کے لئے طلاق ایک بہترین ہتھیار ہے۔اور جب چاہیں بغیر سوچے سمجھے اسے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ایسے لوگوں کی ہی تأدیب اور اصلاح کے لئے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک وقت میں دی جانے والی تین طلاقوں کو تین شمار فرمایا تھا۔اس لئے میرے نزدیک تو یہ طلاق ہو گئی ہے اور اب رجوع نہیں ہو سکتا۔لیکن پھر بھی مزید جائزہ لے لیں۔(قسط نمبر 25، الفضل انٹر نیشنل 24 دسمبر 2021ء صفحہ 11) 372