بنیادی مسائل کے جوابات — Page 369
نہیں دیتا۔اس لئے ایسے غصہ کی حالت میں دی جانے والی طلاق بھی مؤثر ہو گی۔البتہ اگر کوئی انسان ایسے طیش میں تھا کہ اس پر جنون کی کیفیت طاری تھی اور اس نے نتائج پر غور کئے بغیر جلد بازی میں اپنی بیوی کو طلاق دی اور پھر اس جنون کی کیفیت کے ختم ہونے پر نادم ہوا اور اسے اپنی غلطی کا احساس ہوا تو اسی قسم کی کیفیت کے لئے قرآن کریم نے فرمایا ہے کہ: لا يُؤَاخِذُكُمُ اللهُ بِاللَّغْوِ فِي أَيْمَانِكُمْ وَلَكِنْ يُؤَاخِذُكُمْ بِمَا كَسَبَتْ قُلُوبُكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ حَلِيمٌ (سورة البقرة:226) یعنی اللہ تمہاری قسموں میں (سے) لغو (قسموں) پر تم سے مؤاخذہ نہیں کرے گا۔ہاں جو (گناہ) تمہارے دلوں نے (بالا رادہ) کمایا اس پر تم سے مؤاخذہ کرے گا اور اللہ بہت بخشنے والا (اور) بردبار ہے۔جہاں تک طلاق کے لئے گواہی کا مسئلہ ہے تو یہ اس لئے ہے کہ تنازعہ کی صورت میں فیصلہ کرنے میں آسانی رہے۔لیکن اگر میاں بیوی طلاق کے اجراء پر متفق ہوں اور ان میں کوئی اختلاف نہ ہو تو پھر گواہی کے بغیر بھی ایسی طلاق مؤثر شمار ہو گی۔پس طلاق کے لئے گواہی کا ہونا مستحب ہے، لازمی نہیں۔چنانچہ قرآن کریم نے طلاق اور رجوع کے سلسلہ میں جہاں گواہی کا ذکر کیا ہے وہاں اسے نصیحت قرار دیا ہے۔جیسا کہ فرمایا: فَإِذَا بَلَغْنَ أَجَلَهُنَّ فَأَمْسِكُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ أَوْ فَارِقُوْهُنَّ بِمَعْرُوفٍ وَأَشْهِدُوا ذَوَيْ عَدْلٍ مِنْكُمْ وَأَقِيْمُوا الشَّهَادَةَ لِلَّهِ ذَلِكُمْ يُوْعَظُ بِهِ مَنْ كَانَ يُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ وَمَنْ يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجًا۔(سورة الطلاق: 3) یعنی پھر جب عورتیں عدت کی آخری حد کو پہنچ جائیں تو انہیں مناسب طریق پر روک لو یا انہیں مناسب طریق پر فارغ کر دو۔اور اپنے میں سے دو منصف گواہ مقرر کرو۔اور خدا کے لئے سچی گواہی دو۔تم میں سے جو کوئی اللہ اور یوم آخر پر ایمان لاتا ہے اس کو یہ نصیحت کی جاتی ہے اور جو شخص اللہ کا تقویٰ اختیار کرے گا اللہ اس کے لئے کوئی نہ کوئی رستہ نکال دے گا۔چنانچہ فقہاء اربعہ بھی اس بات پر متفق ہیں کہ اگر کوئی شخص بغیر گواہوں کے طلاق دیدے یا 369