بنیادی مسائل کے جوابات — Page 368
طلاق سوال: ایک دوست نے ایک وقت میں دی جانے والی تین طلاقوں، غصہ کی حالت میں دی جانے والی طلاق اور طلاق کے لئے گواہی کے مسائل کی بابت بعض استفسار حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں عرض کئے۔حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مؤرخہ یکم جون 2019ء میں ان سوالات کا درج ذیل جواب عطا فرمایا۔حضور انور نے فرمایا: جواب: جب کوئی شخص اپنی بیوی کو پورے ہوش و حواس سے طلاق دے تو طلاق خواہ زبانی ہو یا تحریری، ہر دو صورت میں مؤثر ہو گی۔البتہ ایک نشست میں تین مرتبہ دی جانے والی طلاق صرف ایک ہی طلاق شمار ہوتی ہے۔چنانچہ کتب احادیث میں حضرت رکانہ بن عبد یزید کا واقعہ ملتا ہے کہ انہوں نے اپنی بیوی کو ایک وقت میں تین طلاقیں دیدیں۔جس کا انہیں بعد میں افسوس ہوا۔جب یہ معاملہ آنحضرت ا کے پاس پہنچا تو آپ نے فرمایا کہ اس طرح ایک طلاق واقع ہوتی ہے اگر تم چاہو تو رجوع کر سکتے ہو۔چنانچہ انہوں نے اپنی طلاق سے رجوع کر لیا اور پھر اس بیوی کو حضرت عمر کے زمانہ خلافت میں دوسری اور حضرت عثمان کے زمانہ خلافت میں تیسری طلاق دی۔(سنن ابي داؤد کتاب الطلاق باب في البثة) حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس بارہ میں فرماتے ہیں: طلاق ایک وقت میں کامل نہیں ہو سکتی۔طلاق میں تین طہر ہونے ضروری ہیں۔فقہاء نے ایک ہی مرتبہ تین طلاق دے دینی جائز رکھی ہے مگر ساتھ ہی اس میں یہ رعایت بھی ہے کہ عدت کے بعد اگر خاوند رجوع کرنا چاہے تو وہ عورت اسی خاوند سے نکاح کر سکتی ہے اور دوسرے شخص سے بھی کر سکتی ہے۔“ ( ملفوظات جلد پنجم صفحہ 17۔ایڈیشن 2016ء) اسی طرح جب کوئی شخص اپنی بیوی کو طلاق دیتا ہے تو اس کی کسی نا قابل برداشت اور فضول حرکت پر ناراض ہو کر یہ قدم اٹھاتا ہے۔بیوی سے خوش ہو کر تو کوئی انسان اپنی بیوی کو طلاق 368