بنیادی مسائل کے جوابات — Page 366
طاق نمبر سوال: ایک خاتون نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز سے استفسار کیا کہ : 1- اللہ تعالیٰ کو طاق نمبر کیوں پسند ہے؟ 2۔اللہ تعالیٰ نے اپنے لئے قرآن مجید میں مذکر کا صیغہ کیوں استعمال کیا ہے؟ 3۔کیا یہ بات درست ہے کہ جنت میں اعلیٰ مقام والے لوگ اپنے سے کم مقام والوں کو تو مل سکیں گے ، لیکن کم درجہ والے اعلیٰ درجہ والوں سے نہیں مل سکیں گے؟ 4۔ایک دہر یہ کو کیسے سمجھایا جا سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بالآخر انسانوں کو معاف کر کے جنت میں لے جانا ہے؟ جواب: آپ کے پہلے سوال کا جواب تو حدیث میں بھی بیان ہوا ہے کہ اللہ تعالیٰ چونکہ خود ایک ہے اور ایک کا ہندسہ طاق ہے اس لئے اللہ تعالیٰ کو طاق پسند ہے۔چنانچہ حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے کہ حضور اﷺ نے فرمایا إِنَّ الله وثرٌ يُحِبُّ الْوِثر۔یعنی اللہ تعالیٰ یقیناً وتر ہے اور وتر کو پسند کرتا ہے۔(صحيح مسلم كتاب الذكر والدعاء والتوبه والاستغفارباب فــي أَسْمَاءِ اللهِ تَعَالَي وَفَضْلِ مَنْ أَحْصَاهَا) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ اس مضمون کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: ہمیں اللہ تعالیٰ کا یہ قانون نظر آتا ہے کہ وہ طاق چیزوں کو پسند کرتا ہے۔رسول کریم ام ہمیشہ فرمایا کرتے تھے کہ اللہ تعالی طاق چیزوں کو پسند کرتا ہے۔وہ خود بھی ایک ہے اور دوسری اشیاء کے متعلق بھی وہ یہی پسند کرتا ہے کہ وہ طاق ہوں۔چنانچہ یہ حکمت ہمیں ہر جگہ نظر آتی ہے۔مگر یہ ایک الگ اور وسیع مضمون ہے جس کو اس وقت بیان نہیں کیا جا سکتا۔ورنہ حقیقت یہ ہے کہ تمام قانون قدرت میں اللہ تعالیٰ نے طاق کو قائم رکھا ہے اور اس کے ہر قانون پر طاق حاوی قرآن کریم کے محاوروں اور سول کریم الم کے محاوروں سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ سات کے عدد کو تکمیل کے ساتھ خاص طور پر ہے۔366