بنیادی مسائل کے جوابات — Page 365
سوال: جرمنی سے ایک مربی صاحب نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں تحریر کیا کہ کیا ایک عورت اپنے مخصوص ایام میں کسی عورت کی میت کو غسل دے سکتی ہے؟ نیز یہ کہ جس شخص کو صدقہ دیا جائے کیا اسے بتاناضروری ہے کہ یہ صدقہ کی رقم ہے؟ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مؤرخہ 15 ستمبر 2021ء میں بارہ میں درج ذیل ہدایات عطا فرمائیں۔حضور انور نے فرمایا: جواب: آپ کے دوسرے سوال کا جواب یہ ہے کہ صدقہ بتا کر دینا چاہیے کیونکہ کئی لوگ صدقہ لینا پسند نہیں کرتے۔پھر حدیث میں بھی آتا ہے کہ حضور ا کی خدمت میں اگر صدقہ کی کوئی چیز آتی تو آپ اپنے اور اپنے اہل خانہ کے لئے اسے استعمال نہ فرماتے بلکہ اہل صفہ کو بھجوا دیتے لیکن اگر کوئی ہدیہ پیش کرتا تو اس میں سے خود بھی کھاتے اور اہل صفہ کو بھی بھجواتے۔اس سے تو بظاہر یہی ثابت ہوتا ہے کہ آپ کی خدمت میں صدقات اور ہد یہ جات پیش کرنے والے بھی آپ کو بتایا کرتے تھے کہ یہ صدقہ ہے یا ہدیہ ہے۔اسی لئے تو آپ اس کے استعمال میں بھی فرق فرمایا کرتے تھے۔(صحيح بخاري كتاب الرقاق بَاب كَيْفَ كَانَ عَيْشُ النَّبِيِّ صَلَّي اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ وَ تَخَلَّيْهِمْ مِنَ الدُّنْيَا) (قسط نمبر 42، الفضل انٹر نیشنل 4 نومبر 2022ء صفحہ 10) 365