بنیادی مسائل کے جوابات

by Hazrat Mirza Masroor Ahmad

Page 354 of 684

بنیادی مسائل کے جوابات — Page 354

شادی کے بعد عورت کے لئے خاوند کا نام اپنانا سوال: اسی ملاقات میں ایک ممبر لجنہ نے دریافت کیا کہ کئی دفعہ شادی کے بعد لڑکیاں اپنا نام بدل کر خاوند کے نام کے ساتھ ملا کر رکھ لیتی ہیں۔اسلامی نظریہ کے مطابق ایسا کرنا جائز ہے ؟ حضور انور اس سوال کے جواب میں فرمایا: جواب: کوئی حرج نہیں ہے۔رکھ لیتی ہیں تو کیا ہو گیا؟ اب ان کی جو پہچان ہے سرکاری کاغذوں میں ، تو مجبوری ہے۔بعض دفعہ سرکاری کاغذوں میں ایک نام مثلاً عطیہ بابر کسی نے اپنے باپ کے نام سے نام رکھا ہوا ہے۔تو جب اس کی شادی ہو جائے گی، اس کی رجسٹریشن ہو جائے گی تو رجسٹریشن میں، اس کے نکاح فارم یا سرکاری کاغذوں میں اس کا نام عطیہ مبشر کے نام سے اگر آجائے گا، بابر کی جگہ مبشر آجائے گا تو اس میں کیا حرج ہے؟ کوئی حرج نہیں اس میں۔اسلام میں اس کی بالکل اجازت ہے کہ خاوند کے نام سے نام رکھ لیا جائے۔اصل نام اس کا عطیہ ہے۔دوسرا نام تو پہچان کے لئے رکھا ہوا ہے، پہلے باپ اس کی پہچان تھا اب شادی کے بعد خاوند اس کی پہچان ہو گیا۔بلکہ اچھی بات ہے جو خاوند کی پہچان کے ساتھ نام رکھیں گے تو خاوند کو اپنی بیوی کی عزت کا خیال رہے گا اور بیوی کو اپنے خاوند کی عزت کا خیال رہے گا۔اور دونوں میں اس سے پیار اور تعلق زیادہ قائم ہو گا۔اس لئے خاوند کے نام سے نام رکھنے میں کوئی حرج نہیں۔(قسط نمبر 19، الفضل انٹر نیشنل 20 اگست 2021ء صفحہ 11) 354