بنیادی مسائل کے جوابات — Page 345
پس بیوہ کے علاوہ باقی تمام عزیزوں کے لئے خواہ وہ والدین ہوں، اولاد ہو یا بہن بھائی ہوں، سب کو صرف تین دن تک سوگ کی اجازت ہے ، اس سے زیادہ نہیں۔جہاں تک بیوہ کے (چار ماہ دس دن کے) سوگ کی حدود کا تعلق ہے تو اسلام نے اس میں نہ تو کسی قسم کا کوئی استثناء رکھا اور نہ ہی اس حکم میں عمر کی کوئی رعایت رکھی ہے۔پس بیوہ کے لئے ضروری ہے کہ وہ عدت کا یہ عرصہ حتی الوسع اپنے گھر میں گزارے۔اس دوران اسے بناؤ سنگھار کرنے، سوشل پروگراموں میں حصہ لینے اور بغیر ضرورت گھر سے نکلنے کی اجازت نہیں۔عدت کے عرصہ کے دوران بیوہ اپنے خاوند کی قبر پر دعا کے لئے جاسکتی ہے بشر طیکہ وہ قبر اسی شہر میں ہو جس شہر میں بیوہ کی رہائش ہے۔نیز اگر اسے ڈاکٹر کے پاس جانا پڑے تو یہ بھی مجبوری کے تحت آتا ہے۔اسی طرح اگر کسی بیوہ کے خاندان کا گزارا اس کی نوکری پر ہے جہاں سے اسے رخصت ملنا ممکن نہیں، یا بچوں کو سکول لانے لے جانے اور خریداری کے لئے اس کا کوئی اور انتظام نہیں تو یہ سب امور مجبوری کے تحت آئیں گے۔ایسی صورت میں اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ سیدھی کام پر جائے اور کام مکمل کر کے واپس گھر آکر بیٹھے۔مجبوری اور ضرورت کے تحت گھر سے نکلنے کی بس اتنی ہی حد ہے۔کسی قسم کی سوشل مجالس یا پروگراموں میں شرکت کی اسے اجازت نہیں۔(قسط نمبر 20 ، الفضل انٹر نیشنل 10 ستمبر 2021ء صفحہ 11) 345