بنیادی مسائل کے جوابات — Page 309
رضاعت سوال: ایک خاتون نے حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خدمت اقدس میں تحریر کیا کہ میں نے اپنے بیٹے کے ساتھ اپنے چھوٹے بھائی کو بھی تیس سال پہلے دودھ پلایا تھا۔اب میرے بڑے بھائی کے بیٹے کے ساتھ میری بیٹی کا رشتہ تجویز ہوا ہے۔کیا یہ رشتہ ہو سکتا ہے ؟ حضور انور ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے اپنے مکتوب مؤرخہ 14 دسمبر 2020ء میں درج ذیل ارشاد فرمایا: جواب: رضاعت کے بارہ میں آنحضور الم کا ارشاد ہے کہ جو رشتے نصب کی بناء پر حرام ہیں اگر رضاعت کی بناء پر قائم ہو جائیں تو رضاعت کی وجہ سے ان رشتوں کی بھی حرمت قائم ہو جاتی ہے۔(صحيح بخاري كتاب الشهادات) لیکن شرط یہ ہے کہ بچہ نے اپنی دودھ پینے کی عمر میں پانچ مرتبہ سیر ہو کر دودھ پیا ہو۔(صحیح مسلم کتاب الرضاع) اس کے ساتھ یہ بات بھی مد نظر رکھنی ضروری ہے کہ رضاعت کی حرمت صرف دودھ پینے والے بچہ اور آگے اس کی نسل کے ساتھ قائم ہوتی ہے، اس دودھ پینے والے بچہ کے دوسرے بہن بھائیوں پر اس رضاعت کا کوئی اثر نہیں ہوتا۔پس اس لحاظ سے آپ کی بیٹی کا رشتہ آپ کے اُس بھائی کے بیٹے سے جس نے آپ کا دودھ نہیں پیا ہوا، ہونے میں کوئی حرج نہیں۔اللہ تعالیٰ دونوں خاندانوں کے لئے یہ رشتہ بہت مبارک فرمائے، بچوں کی طرف سے آپ کی آنکھیں ٹھنڈی رکھے اور ہمیشہ آپ کو اپنے فضلوں سے نوازتا رہے۔آمین (قسط نمبر 29، الفضل انٹر نیشنل 25 فروری 2022ء صفحہ 10) 309